کویت سٹی: کویت سینٹرل بینک نے عوام کو آن لائن مالیاتی فراڈیوں (اسکیمرز) کے ہتھکنڈوں سے بچنے کے لیے سخت وارننگ جاری کردی ہے۔ بینک نے خبردار کیا ہے کہ سرمایہ کاری کے جعلی مواقع اور مشکوک منی ٹرانسفر اسکیمیں شہریوں کو دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ جیسی غیر قانونی سرگرمیوں میں دھکیل سکتی ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سینٹرل بینک کا اس اہم الرٹ میں کہنا ہے کہ دھوکے باز سوشل میڈیا چینلز اور میسجنگ ایپلی کیشنز کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ عناصر معصوم شہریوں کو معمولی رقم پر غیر حقیقی منافع کمانے کا جھانسہ دے کر اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق فراڈ کرنے والے ابتدا میں گمنام اکاؤنٹس کے ذریعے متعدد افراد کے درمیان رقم گردش کرواتے ہیں تاکہ اعتماد بحال کیا جا سکے۔
ابتدائی بھروسہ قائم ہونے کے بعد، متاثرہ افراد سے ایسے تجارتی (ٹریڈنگ) پلیٹ فارمز کے ذریعے بڑی رقوم منتقل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیے گئے ہوتے ہیں۔
بیرون ملک جانے کا خواب؟ ٹرمپ حکومت کا وہ فیصلہ جس نے ہزاروں والدین کی نیندیں اڑا دیں!
کویت سینٹرل بینک نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے تمام مشکوک مالیاتی لین دین منی لانڈرنگ کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ شہری اور غیر ملکی مقیم سستے اور غیر حقیقت پسندانہ منافع کے لالچ میں آ کر کسی بھی غیر سرکاری یا مشکوک اسکیم کا حصہ بننے سے مکمل گریز کریں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


