کویت سٹی (09 فروری 2026): کویت نے غیر ملکی خاندانوں کے رہائشی قوانین میں بڑی تبدیلیاں کر دی ہیں۔
کویتی وزارتِ داخلہ کے مطابق امیگریشن نظام کو زیادہ منظم اور سخت بنایا جا رہا ہے، اب غیر ملکیوں کے بچے اور شریکِ حیات قانون کے آرٹیکل 22 کے تحت آئیں گے، اور ان پر وزارت کی تمام موجودہ شرائط اور اہلیت کے ضوابط لاگو ہوں گے۔
ماضی میں مختلف اور غیر منظم طریقوں کے تحت اجازت نامے جاری ہوتے رہے ہیں، اب ان میں یکسانیت لائی گئی ہے۔
کویتی شہریوں کی بیویوں اور کویتی خواتین کے شوہروں کے لیے ضابطے مختلف رکھے گئے ہیں، کویتی شہریوں کی بیویوں کو اب آرٹیکل 26 کے تحت دوبارہ درجہ بند کیا گیا ہے، جس میں اب واضح طور پر کویتی خواتین کے شوہر بھی شامل ہوں گے۔
سعودی عرب، 11 ہزار 656 غیرقانونی تارکین ملک بدر
ان دونوں گروپوں سے شریکِ حیات سے ہر سال 15 کویتی دینار فیس وصول کی جائے گی۔ یہ فیس مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں ہوگی۔ کویتی شہریوں کی بیواؤں اور طلاق یافتہ افراد کو بھی اسی سالانہ فیس کے ساتھ رہائش کی اجازت دی جا سکتی ہے، یہ اجازت آرٹیکل 28 کے تحت اور وزارت کی منظوری سے ہوگی۔
کویتی شہریوں کے ماموں اور خالہ کو اب مفت رہائشی اجازت نامہ مل سکے گا، یہ توسیعی سہولت آرٹیکل 27 کے تحت دی گئی ہے۔ غیر ملکیوں کے والدین کے قوانین سخت کر دیے گئے ہیں، انھیں اب آرٹیکل 29 کے تحت شامل کیا گیا ہے، جن والدین کے ویزے ختم ہو چکے ہیں، انھیں ذاتی طور پر دفتر جا کر تجدید کرانا ہوگی، اس پہلی تجدید پر 300 کویتی دینار فیس دینا ہوگی۔ بعد کی تجدید آن لائن ہو سکے گی، مگر فیس وہی رہے گی۔ یہ قدم پرانی خاندانی کفالت کے نظام کو سخت کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
غیر ملکی جائیداد مالکان اور سرمایہ کاروں کے لیے الگ قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ ان کے لیے نیا آرٹیکل اور الگ فیس مقرر کی جائے گی۔ وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ ہر درخواست گزار کو سخت شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


