The news is by your side.

Advertisement

کویت: غیر ملکیوں کے ورک پرمٹ سے متعلق اچھی خبر

کویت سٹی: عالمی وبا کرونا کے باعث کویت نے اپنے صحت کے نظام سے متعلق بڑا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کویت نے ساٹھ سال سے زائد عمر کے تمام غیر ملکیوں کے لیے روایتی ہیلتھ انشورنس لازم ہونے کا فیصلہ کیا ہے، افرادی قوت “فتویٰ اور قانون سازی” کے تعاون سے یہ معاملہ حل ہونے کے قریب ہے۔

باخبر ذرائع نے روزنامہ الرای کو بتایا کہ حکومت مستقبل میں ہیلتھ انشورنس کو عام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، یہ انشورنس ساٹھ سال سے زائد عمر کے تمام تارکین وطن کے لیے لازمی ہوگی خواہ ان کی اہلیت یا سرٹیفکیٹ کچھ بھی ہوں تاکہ سرکاری صحت کے شعبے پر ایسا کوئی بوجھ نہ پڑے جس سے کویتی شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات متاثر ہوں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تجارت اور صنعت کے وزیر ڈاکٹر عبداللہ السلمان نے فتویٰ اور قانون سازی کے سربراہ کونسلر صلاح المساد سے کہا کہ وہ پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے آئندہ اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے “فتویٰ اور قانون سازی” کے قانونی مشیروں کی مدد لیں۔

یہ بھی پڑھیں: کویتی ویزوں سے متعلق نئی شرائط عائد

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ السلمان کی درخواست “فتویٰ اور قانون سازی” ڈیپارٹمنٹ کی رائے کے عنوان کو شامل کرنے کی وجہ سے سامنے آئی ہے جو 2020 کی قرارداد نمبر (520) میں موجود ہے، ثانوی سرٹیفکیٹ کے ساتھ 60 سال سے زیادہ عمر کے رہائشیوں کو ورک پرمٹ دینے کے لیے قواعد و ضوابط کی فہرست اور آئندہ “مین پاور” بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایجنڈے میں کیا شامل ہے۔

اس سلسلے میں یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ مقامی انشورنس کمپنیوں میں سے ایک میں ہیلتھ انشورنس کے علاوہ روایتی فیس کے عوض اس طبقہ کے لیے اجازت ناموں کی اجازت دی جائے گی جسے وزیر السلمان نے مالی اور لاجسٹک دباؤ سے بچنے کے لیے آگے بڑھایا ہے جو اس گروپ کے افراد کی وجہ سے صحت کے نظام پر پڑ سکتے ہیں۔

فتویٰ اور قانون سازی ڈیپارٹمنٹ کے فیصلے کے بعد ثانوی سرٹیفکیٹ یا اس سے کم تعلیم یافتہ ساٹھ سالہ غیرملکیوں کے ورک پرمٹ تجدید کا فیصلہ ایک نئے فارمیٹ کے تحت کیا جائے گا جو پرائیویٹ ہیلتھ انشورنس کے نفاذ کے ساتھ پرانی فیس کی بنیاد پر ہی ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں