The news is by your side.

Advertisement

کویتی حکومت کا غیر ملکی افراد کی سہولت کیلئے اہم اقدام

کویت سٹی : کویت میں ایک قانون تیار جارہا ہے جس کے تحت کچھ غیر ملکیوں کو ملک میں کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی، مالکان کو کوٹہ سے زیادہ غیر ملکیوں کو ملازمت دینے سے منع کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کویتی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کے تحت گھریلو ملازمین، جی سی سی ممالک کے افراد، گورنمنٹ  کنٹریکٹ ورکرز، سفارت کار اور کویتی شہریوں کے عزیزو اقارب کو کوٹہ سسٹم سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔

اس قانون کا مقصد کویت کی آبادی میں توازن پیدا کرنا ہے، اس کے تحت مالکان کو کوٹہ سے زیادہ غیر ملکیوں کو ملازمت دینے
سے منع کر دیا گیا ہے۔

مختص کیے گئے کوٹے سے تجاوز کریں گے انہیں دس سال جیل اور تین لاکھ 26 ہزار اور819 ڈالر تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔
نئی تجویز کے تحت بھارتی شہری آبادی کے 15 فیصد سے تجاوز نہیں کرنے چاہئیں۔

سری لنکن، فلپائنی اور مصری شہری 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونے چاہیں، جبکہ بنگلہ دیشی، پاکستانی، نیپالی اور ویت نامی شہری پانچ فیصد سے زیادہ نہیں ہونے چاہیں۔

دیگر ممالک کے شہری تین فیصد سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں، اس قانون کا ڈرافٹ منظوری کے لیے کویت کی ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ قانون کے نفاذ کے بعد کوٹے سے تجاوز کرنے والے غیرملکیوں کو ملک چھوڑنے کا نہیں کہا جائے گا لیکن
مختلف صنعتوں کے مقررہ ٹارگٹ حاصل کرنے تک بیرون ملک سے بھرتی روک دی جائے گی۔

واضح رہے کہ کویت میں گزشتہ دو برسوں کے دوران بھی غیر مُلکی ملازمین کی جگہ مقامی افراد کو بھرتی کرنے کی خاطر چار  ہزار 640 غیر مُلکی ملازمین کی نوکریاں ختم کر دی گئیں جبکہ 1500 کویتی نوجوانوں کو بینکوں میں بھرتی کرنے کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔

گزشتہ سال کویتی حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف آپریشن کے نتیجے میں ہزاروں غیر مْلکیوں کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔

2019ء میں بھی 6 ہزار سے زائد تارکین وطن کو کویت سے ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔ یہ افراد غیر قانونی طور پر کویت میں مقیم تھے۔ ان ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں پاکستانی بھی سینکڑوں کی گنتی میں شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد قانون محنت اور قانونِ رہائش کی خلا ف ورزی کے مرتکب پائے گئے جب کہ معمولی جرائم میں ملوث بہت سے افراد بھی ڈی پورٹ کیے گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں