The news is by your side.

Advertisement

کویتی حکام کی ویزا و اقامہ کے حوالے سے اہم وضاحتیں

کویت سٹی: کویتی حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک پھنسے تارکین وطن کی واپسی کے لیے کویت کا ویزا لازمی شرط ہے، وزارت داخلہ نے اس حوالے سے مزید وضاحت بھی جاری کی ہے۔

کویتی میڈیا کے مطابق وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ کویتی خواتین اپنے غیر ملکی شوہر اور بچوں کو اسپانسر کرنے کا حق رکھتی ہیں بشرطیکہ ان میں سے کوئی بھی سرکاری یا نجی ادارے کے لئے کام نہ کرتا ہو، خاتون کو کویتی شہری سے شادی کے ذریعے شہریت حاصل نہ ہوئی ہو۔

وزارت داخلہ کے مطابق اس کے علاوہ غیر کویتی بیویوں اور غیر کویتی بچوں کو رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنے کا حق ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ ایسے گھریلو ملازمین جن کا رہائشی اقامہ ملک سے باہر ہونے کے عرصے کے دوران ختم ہوگیا ہے، قانون کی رو سے اگر وہ دوبارہ ملک میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو انہیں نئے انٹری ویزا کی درخواست دینا ہوگی اور تمام نئے طریقہ کار پر عمل کرنا پڑے گا۔

یہی قانون ان غیر ملکی کارکنان پر بھی لاگو ہوتا ہے جو دوسرے ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں تاہم کارکنان کو وزارتی مجلس میں کرونا وائرس ہنگامی صورتحال کے لیے وزارتی کمیٹی کی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں مقیم غیر ملکی بچوں کے والد اگر ملک سے باہر تھے اور ان بچوں کے رہائشی اجازت نامے کی میعاد ختم ہوجاتی ہے تو جب تک والد ملک میں واپس داخل نہیں ہوجاتے تب تک ان بچوں کے اقاموں کی تجدید نہیں کی جائے گی۔

اسی طرح اگر والد واپس ملک لوٹنے میں ناکام رہتے ہیں تو اس صورت میں بچے اپنی رہائشی حیثيت میں ترمیم کرسکتے ہیں یا ملک چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔

گھریلو ملازمین سمیت کارکنوں کو جاری کردہ تمام نئے داخلہ ویزوں کے لیے وزرا کی کونسل میں کرونا ایمرجنسی وزارتی کمیٹی کی منظوری درکار ہوگی۔

غیر ملکی کارکنان جن کے کفیل وفات پا چکے ہیں انہیں ملک میں اپنی رہائشی حیثیت کو ایڈجسٹ کرنا ہوگا، اس سلسلے میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔ اگر وہ رہائشی اجازت نامہ حاصل نہیں کرتے ہیں تو انہیں ملک چھوڑنا پڑے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں