کویت سٹی: کویت کے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو حالیہ دنوں میں موصول ہونے والی مشتبہ بین الاقوامی فون کالز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ کالز ایک منظم عالمی سائبر فراڈ کا حصہ ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کالز میں اکثر ایک گھنٹی بجنے کے بعد فوری طور پر کال منقطع ہو جاتی ہے، جسے عالمی سطح پر“وانگیری اسکیم”(Wangiri Scam) کہا جاتا ہے، یعنی ’ایک گھنٹی دے کر کال بند کر دینا‘۔
دھوکہ دہی کرنے والے خودکار کالنگ سسٹمز کے ذریعے ہزاروں نمبرز پر کال کرتے ہیں۔ جب متاثرہ شخص کال ریسیو کرتا ہے یا واپس کال کرتا ہے تو اسے مہنگے بین الاقوامی نمبرز پر منتقل کر دیا جاتا ہے، جہاں فی منٹ انتہائی زیادہ چارجز عائد کیے جاتے ہیں، اور متاثرہ شخص یہ سب کچھ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے۔
یہ اسکیم مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے، جن میں کال کرنے والے کو وائس میسجز یا خودکار ٹرانسفر کے ذریعے لائن پر مصروف رکھنا شامل ہے، جس سے بھاری مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات ان کالز کا مقصد متاثرہ شخص کی آواز ریکارڈ کرنا بھی ہوتا ہے، جسے بعد میں دیگر فراڈز میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے کہ جعلی مالی لین دین یا کسی سروس کی منظوری حاصل کرنا بھی ہوسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض فراڈی نیٹ ورکس بعد میں جعلی لنکس پر مشتمل ٹیکسٹ میسجز بھی بھیجتے ہیں، جن میں پارسل ڈیلیوری، اکاؤنٹ اپڈیٹ یا دیگر معلومات کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ایسے لنکس پر کلک کرنے سے موبائل ہیکنگ یا ذاتی معلومات کی چوری کا خطرہ ہوتا ہے۔
ان کالز کے نمبرز بظاہر قریبی ممالک سے معلوم ہوتے ہیں، تاہم درحقیقت یہ اکثر بحرالکاہل کے جزائر، افریقی ممالک یا مشرقی یورپ سے کیے جاتے ہیں۔
کویت، رہائشی سہولت کے قوانین مزید سخت کردیئے گئے
سیکیورٹی حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ملکی نمبرز سے آنے والی کالز کا جواب نہ دیں، خاص طور پر اگر ان ممالک میں ان کے عزیز و اقارب موجود نہ ہوں۔ ایک گھنٹی کے بعد بند ہونے والی کالز کو نظر انداز کریں، نامعلوم نمبرز سے آنے والے لنکس پر کلک نہ کریں، اور مشتبہ نمبرز کو فوری طور پر بلاک کریں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


