The news is by your side.

Advertisement

کویتی حکومت نے ویزے کی شرائط جاری کردیں

کویت سٹی : کویتی حکومت نے مزدور طبقے کو ویزے فراہم کرنے کیلئے اہم اقدامات اور شرائط کا اعلان کیا ہے جس پر عمل درآمد کے بعد ویزوں کا اجراء کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق کویت کا ورک ویزا صرف اس صورت میں دیا جائے گا جب اہلیت پیشے سے مماثل ہو، اس حوالے سے لیبر مارکیٹ کے تمام شعبوں میں پیشوں کی درجہ بندی اور اہلیت کی منظوری کے بعد پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت نے اہم بیان جاری کیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے ورک پرمٹ صرف اسی صورت میں جاری کرے گی جب ان کی اہلیت ان پیشوں سے مطابقت رکھتی ہو جس کے لیے انہیں بھرتی کیا جا رہا ہے۔

لاگو کیے جانے والے نئے میکانزم کی وضاحت کرتے ہوئے پی اے ایم میں کیپیٹل گورنریٹ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر فہدالعجمی نے کہا کہ اعلیٰ ترین پیداواری صلاحیت اور کام کی کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے اگر کارکنوں کی قابلیت ان کے پیشوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی جس کے لیے وہ بھرتی کیے جا رہے ہیں تو ایسے کارکنوں کو بیرون ملک سے بھرتی نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کمرشل انٹری ویزا پر بھرتی ہونے والے کسی بھی شخص کو اپنا ویزا صرف اسی کمپنی کو منتقل کرنے کی اجازت ہوگی جس نے کمرشل ویزا فراہم کیا تھا۔

منتقلی کو نئے ورک پرمٹ کے طور پر ہی سمجھا جائے گا جبکہ اس کے نتیجے میں کمپنی کو مختص غیرملکی کارکنوں کی تعداد کے تخمینہ سے کٹوتی کی جائے گی۔

ویزہ کی منتقلی پیشے کے تقاضوں کے مطابق پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ (پی سی سی) اور انٹری ویزا کی کاپی (اگر کوئی ہو) حاصل کرنے والے کارکن پر بھی مشروط ہوتی ہے۔

العجمی نے انکشاف کیا کہ میں ویزوں کے حصول یا منتقلی کے تمام طریقہ کار اب مکمل طور پر خودکار (آن لائن) ہیں اور ان کے لیے آجر (کفیل) کی موجودگی کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ خودکار طریقہ کار نے بڑی حد تک ویزہ کے تجارتی آپریشنز کو ختم کر دیا ہے جس کی وجہ ایک خودکار طریقہ کار کے ذریعے تمام طریقہ کار کو مکمل کرنا ہے جس کے لیے صرف تھوڑے سے طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ دیگر سرکاری اداروں سے درست اور خودکار ربط، آجروں یا ملازمین کو متعدد دفاتر کا دورہ کیے بغیر طریقہ کار کو مکمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت خودکار نظام کے استعمال کو وسعت دینے اور اتھارٹی اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں خاص طور پر وزارت صحت، داخلہ اور تجارت، جسٹس، پبلک اتھارٹی برائے سول انفارمیشن اور دیگر کے درمیان ہونے والے وسیع تعاون کے ذریعے تمام طریقہ کار کو کاغذ سے آن لائن کرنے کا خواہاں ہے۔

العجمی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اتھارٹی نے ڈائریکٹر کے جاری کردہ انتظامی سرکلر (18/2021) کے مطابق بیرون ملک سے غیر ملکی کارکنوں کو لانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

اس کے مطابق تمام کمپنیاں جو بیرون ملک سے تارکین وطن کارکنوں کو لانے کے لیے اجازت نامے حاصل کرنا چاہتی ہیں انہیں خودکار سروس (آشال) کے ذریعے درخواست جمع کرانا ہوں گی اور وزارت صحت کی جانب سے ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کی منظوری سمیت ان اقدامات پر عمل کرنا ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں