The news is by your side.

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے مریض رل گئے؟ مگر کیوں

لاہور: پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مسائل کا گڑھ بن گیا، جہاں زائدالمیعاد ادویات اسکینڈل کے بعد کروڑوں روپے کی ادویات چوری ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب انسیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی فارمیسی سے پانچ کروڑ کی ادویات چوری ہوگئیں ہیں، جس کے بعد امراض قلب کےمریضوں کوفری ادویات کی فراہمی کاسلسلہ رک گیا ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق سرجیکل اسٹور سے چار کروڑ مالیت کے دل کے والواور پیس میکر چوری ہوگئے دیگر ادویات الگ ہیں، سنگین معاملے پر ایم ایس پی آئی سی نے انکوائری کمیٹی رپورٹ بنادی ہے جو کہ کل جمع کرائی جائی گی۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی سی کا سینٹرل ایئر کنڈیشنڈ سسٹم خراب، مریضوں کی حالت بگڑنے لگی

ایم ایس کی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسپتال کے ڈسپوزیبل اور سرجیکل اسٹور سے دل میں لگائی جانے والی مصنوعی بیٹریاں والو پیس میکر ز جن کی تعداد 646 ہے چوری کیے گئے ایم ایس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جب اسٹورز میں چھان بین کی گئی تو مذکورہ تعداد میں مذکورہ آئٹمز غائب تھے۔

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ سازوسامان چوری کر لئے گئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر اشیاء کی قیمتیں2 لاکھ سے 3 لاکھ تک کے درمیان ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں