The news is by your side.

Advertisement

لاہور: خاتون سے اجتماعی زیادتی کا معاملہ، ملزمان تاحال نہ پکڑے گئے

لاہور: پنجاب کے دارالحکومت میں خاتون سے دوران ڈکیتی مبینہ اجتماعی زیادتی سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، تاہم پولیس اب تک ملزمان کا سراغ نہ لگا سکی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے گجرپورہ میں خاتون سے دوران ڈکیتی مبینہ اجتماعی زیادتی کے معاملے پر تفتیش جاری ہے، سی آئی اے اور انوسٹی گیشن پولیس تاحال ملزمان کا سراغ نہ لگا سکی، پولیس نے ریکارڈ یافتہ افراد کو بھی شامل تفتیش کرکے جلد اصل ملزمان کی گرفتاری کی امید دلائی ہے۔

ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کی سربراہی میں پولیس کی 20ٹیمیں تفتیش پر مامور ہیں۔ پولیس کے مطابق جائےوقوع سےڈی این اے سمیت دیگر اہم شواہد جمع کرلیے ہیں، کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج لے لی گئی، جیو فینسنگ بھی کرائی گئی، مقدمے میں نصف درجن سے زائد مشتبہ افراد سے تحقیقات جاری ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان کی جلد گرفتاری کے لیے نادرا ریکارڈ سے بھی معاونت لی جارہی ہے، درجنوں سابق ریکارڈ یافتگان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ انصاف کی فراہمی اورملزمان کی گرفتاری تک پولیس چین سےنہیں بیٹھے گی، خواتین اور بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام اولین ترجیحات میں ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں دوران ڈکیتی خاتون سے زیادتی کا یہ دوسرا واقعہ ہے، موٹروے پولیس سیالکوٹ موٹروے پر آنے والوں سے ٹول ٹیکس لیتی ہے، منگل اور بدھ کی درمیان شب خاتون زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے بتایا کہ خاتون گاڑی سے گوجرانولہ جارہی تھی، گاڑی خراب ہونے پر خاتون باہر نکل کر موبائل فون پربات کررہی تھی، اس دوران زیادتی کے بعد ڈاکو ایک لاکھ نقدی، زیورات اور موبائل فون چھین کرلے گئے۔

لاہور میں سڑک پرخاتون سے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی

خیال رہے کہ خاتون کے رشتہ دار کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے، ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے، عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ سنگین جرم میں ملوث مجرموں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے، مظلوم خاتون کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں