The news is by your side.

Advertisement

لاہور ایئر پورٹ پر لگے پینا فلیکس جہازوں کیلئے خطرہ بن گئے، پرندوں نے گھونسلے بنا لیے

لاہور : ایئرپورٹ پر پی ایس او کے پینا فلیکس جہازوں کیلئے خطرے کا باعث بن گئے، طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لگے پی ایس او کے پینا فلیکس پھٹنے کی وجہ سے پرندوں نے گھونسلے بنانا شروع کردیئے، پرندوں کی آمد کی وجہ سے لاہور ایئرپور ٹ پر اندرون و بیرون ملک سے آنے اور جانے والی پروازوں کو خطرات لاحق ہوگئے۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران جہازوں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں بھی اضافہ ہورہا ہے، سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے پی ایس او کو پھٹے ہوئے پینا فلیکس کو ہٹانے اور تبدیلی کیلئے متعدد بار خط لکھے گئے لیکن پی ایس اور انتطامیہ نے پینا فلیکس تبدیلی کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے۔

ان پینا فلیکس کی وجہ سے پی آئی اے سمیت غیر ملکی ایئرلائنز کے طیاروں سے پرندے ٹکرانے سے جہازوں کو نقصان پہنچا، ذرائع کے مطابق جہازوں کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے پروازوں کا شیڈول بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے پرندوں کو بھگانے کے حوالے سے ایئرپورٹ پر جدید آلات نصب کرنے کے حوالے سے اقدامات کررہی ہے۔

یاد رہے کہ لاہور ایئرپورٹ پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لندن سے لاہور پہنچنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے58 کے انجن نمبر ایک سے پرندہ ٹکرا گیا، کپتان نے مہارت سے طیارے کو ایئرپورٹ پر اتار لیا۔

ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے بوئنگ777طیارے کے انجن نمبر ایک سے پرندہ ٹکرانے کی وجہ سے انجن کو نقصان پہنچا۔ پاکستانی ائر پورٹس پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کا سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا۔

گزشتہ روز لاہور میں پی آئی اے کی پرواز پی کے758سے پرندہ ٹکرانے کے بعد رواں سال میں اس طرح کے واقعات کی نصف سنچری مکمل ہو گئی۔

پرندے ٹکرانے کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو نے سے نہ صرف پی آئی اے کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا ہے بلکہ پروازوں میں غیر متوقع تاخیر اور مسافروں کو ہونے والی تکالیف اور پریشانیاں الگ ہیں۔

اس سلسلے میں جب ترجمان پی آئی اے سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پرندے ٹکرانے سے مالی نقصانات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور پروازوں میں تاخیر کی وجہ سے ہماری ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے اور چونکہ یہ معاملہ ائیر لائن کے دائرہ کار سے باہر ہے۔

لہٰذا ان واقعات کا سدباب کرنے کے لئے متعلقہ اداروں کو اپنا کردار مستعدی سے ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی آگہی کے لئے یہ بتانا ضروری ہو گا کی عموما ایک واقعہ سے تین سے چار پروازیں متاثر ہوتی ہیں جس کا خمیازہ ائیر لائن کو بھگتنا پڑتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں