لاہور (8 فروری 2026): اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت کے تہوار سے ملک کی مجموعی معاشی سرگرمی 20 ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔
لاہور میں بسنت کا تہوار جوش وخروش سے منایا جا رہا ہے۔ شہر میں جشن کا سماں، آسمان پر ہر طرف پتنگیں اڑتی اڑتی اور فضا میں بوکاٹا کے نعرے گونج رہے ہیں۔
ملک بھر سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے بسنت منانے کے لیے آنے والے لوگوں کی وجہ سے ہوٹلوں میں کمرے کم پڑ گئے ہیں جب کہ ہر طرف روایتی کھانے کھائے جا رہے ہیں۔
بسنت نے جہاں اہل لاہور کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیری ہیں، وہیں کاروبار کو بھی چار چاند لگا دیے ہیں۔ گزشتہ پانچ روز سے لاہور کے کسی ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس میں کمرہ دستیاب نہیں۔
لاہور ہوٹلز ایسوسی ایشن کے صدر گلریز خٹک کا کہنا ہے لاہور بسنت فیسٹیول کو بین الاقوامی حیثیت حاصل ہوگئی، تہوار کے موقع پر بہترین انتظامات کئے گئے جن کا تمام کریڈٹ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو جاتا ہے۔
دوسری جانب اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت کے دوران مجموعی معاشی سرگرمی 20 ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اس میں سیاحت، ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، خوراک اور مقامی تجارت نمایاں طور پر شامل ہے۔
کروڑوں روپے کی پتنگوں، ڈور اور متعلقہ سامان کی فروخت سے چھوٹے تاجروں، فروخت کنندگان، ڈرائیورز اور سپلائرز کو براہ راست فائدہ پہنچا۔
بسنت سیزن کے لیے ایک ہزار سے زائد کاروباری افراد نے رجسٹریشن کروائی، جب کہ ہزاروں افراد کو براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع میسر آئے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تہوار سے کاغذ، بانس، دھاگے، پیکیجنگ، خوراک اور ٹرانسپورٹ سمیت متعدد سپلائی چین میں کئی ارب روپے کی کاروباری سرگرمیاں ہو رہی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


