اتوار, مئی 10, 2026
اشتہار

ٹریفک جرمانوں میں کمی کے اطلاق کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور : ٹریفک جرمانوں میں کمی کے اطلاق کا بل سست روی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو تاحال پرانے اور بھاری جرمانوں کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں ٹریفک جرمانوں میں کمی کے اطلاق کا معاملہ حکومتی سست روی کے باعث کھٹائی میں پڑ گیا، ٹریفک جرمانوں میں کمی سے متعلق ترمیمی بل آج بھی پنجاب اسمبلی کے ایجنڈے پر نہ آ سکا، جس کی وجہ سے شہریوں کو تاحال پرانے اور بھاری جرمانوں کا سامنا ہے۔

قائمہ کمیٹی برائے داخلہ یکم اپریل کو چالان میں کمی کی ترامیم منظور کر چکی ہے، محکمہ داخلہ نے کابینہ کی باضابطہ منظوری کے بعد یہ ترامیم قائمہ کمیٹی میں پیش کی تھیں، تاہم ایوان سے حتمی منظوری نہ ملنے کے باعث ان کا نفاذ رکا ہوا ہے، جرمانوں میں ہوشربا اضافہ آرڈیننس کے ذریعے کیا گیا تھا۔

ترمیمی بل کے متن کے مطابق مختلف گاڑیوں کے جرمانوں میں نمایاں کمی تجویز کی گئی، موٹر سائیکل کے بعض چالان 2 ہزار سے کم کر کے 1 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ چالان 2 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔

رکشہ کے لیے بعض خلاف ورزیوں پر جرمانہ 3 ہزار سے کم کر کے 1 ہزار روپے کر دیا گیا ہے جبکہ کار اور جیپ کے لئے چند خلاف ورزیوں پر چالان 5 ہزار سے کم کر کے 3 ہزار روپے تجویز کیا گیا ہے۔

اسی طرح لگژری گاڑیوں کا جرمانہ 20 ہزار سے کم کر کے 10 ہزار روپے کیا گیا ہے جبکہ ٹرک اور بسوں کا زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

بل میں کہا ہے کہ بعض سنگین خلاف ورزیوں پر کوئی رعایت نہیں دی گئی، ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر 5 ہزار روپے کا جرمانہ برقرار رہے گا، موٹر سائیکل، رکشہ اور کار کی اوور اسپیڈنگ پر جرمانوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔

قانون کے مطابق، جرمانوں میں اس کمی کا فائدہ عوام کو صرف اسی صورت میں مل سکے گا جب پنجاب اسمبلی کا ایوان اس بل کی باقاعدہ منظوری دے گا۔

فی الوقت بل ایجنڈے پر نہ آنے کی وجہ سے صوبے بھر میں آرڈیننس کے تحت نافذ العمل مہنگے چالان ہی وصول کیے جا رہے ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں