The news is by your side.

Advertisement

غیر ملکی ماڈل ٹریزا کو عورت ہونے کی وجہ سے کم سزا دی گئی، عدالتی فیصلہ

لاہور : غیر ملکی ماڈل ٹریزا منشیات سمگلنگ کیس میں عدالت نے تفصیلی فیصلے میں کہا ملزمہ ٹریزا ہلسکووا کو عورت ہونے کی وجہ سے کم سزا دی گئی اور قید بامشقت بھی نہیں سنائی، ملزمہ اپنی بےگناہی کے شواہد نہیں دے سکی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی مقامی عدالت نے غیر ملکی ماڈل ٹریزا منشیات سمگلنگ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، ایڈیشنل سیشن جج شہزاد رضا کی جانب سے 34 صفحات پر مبنی تفصیلی فیصلہ جاری ہوا۔

فیصلہ میں عدالت نے قرار دیا کہ ملزمہ ٹریزا ہلسکووا کو عورت ہونے کی وجہ سے کم سزا دی گئی ، ملزمہ کو اٹھ سال اٹھ ماہ قید اور ایک لاکھ تیرہ ہزار تیس سو تینتیس روپے جرمانہ عائد کیا گیا، عورت ہونے کی وجہ سے قید بامشقت بھی نہیں سنائی۔

عدالت نے تفصیلی فیصلہ میں کہا کسٹمز نے ملزمہ کیخلاف نو گواہان پیش کئے، ملزمہ سے ساڑے آٹھ کلو ہیروئن برآمد ہوئی، ملزمہ اپنی بےگناہی کے شواہد نہیں دے سکی۔

فیصلے میں کہا ملزمہ نے دعویٰ کیا کہ وہ تحقیق اور ماڈلنگ کیلئے پاکستان آئی مگر کوئی ثبوت پیش نہ کرسکی، ملزمہ نے جیل میں دو کتابیں لکھنے کا بھی دعویٰ کیا، مگر عدالت میں اس کا بھی ریکارڈ پیش نہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں : ہیروئن اسمگلنگ میں ملوث جمہوریہ چیک کی ماڈل کو آٹھ سال کی سزا

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ملزمہ نے موقف اختیار کیا بیگ اس کا نہیں تھا مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کا بیگ کہاں ہے، شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے ٹریزا ہلکسووا کو ملزمہ قرار دے کر سزا سنائی گئی۔

گذشتہ روز عدالت نے ہیروئن سمگلنگ کیس میں چیک ریپلک کی ماڈل ٹیریزا ہلسکواکو قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی ، عدالتی فیصلے کے بعد ماڈل ٹیریزا آبدیدہ ہو گئیں،ماڈل ٹریزا نے کہا کہ میرے لئے مشکل وقت ہے، فیصلے کوہائی کورٹ میں چیلنج کروں گی، ان کا کہنا تھا کی ایک ایسے جرم کے الزام میں پندرہ مہینے جیل کاٹی جو کیا ہی نہیں تھا۔

واضح رہے ماڈل ٹریزا کو گذشتہ برس 10 جنوری کو ساڑھے آٹھ کلو ہیروئن لاہور ائیر پورٹ سمگل کرنے کی کوشش میں گرفتار کیا گیا تھا، مجرمہ کے خلاف نو گواہوں نے بیانات ریکارڈ کرائے تھے۔

۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں