The news is by your side.

Advertisement

لاہورفیکٹری حادثہ جاں بحق افراد کی تعداد 53 تک پہنچ گئی

لاہور: سندرانڈسٹریل اسٹیٹ میں فیکٹری حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 53 ہوگئی، مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ہے، حادثے کے وقت فیکٹری میں 200 ملازمین موجود تھے۔

لاہور کے صںعتی علاقے سندر میں حادثے کا شکار فیکٹری کے ملبے سے مزید دو افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں ۔ حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد تریپن تک پہنچ گئی ہے جبکہ فیکٹری کا ملبہ ہٹانے کے لئے امدادی کارروائیاں چھٹے روز بھی جاری ہیں، ملبہ ہٹانے اور سریا کاٹنے کیلئےاحتیاط سےکام لیا جارہا ہے.

فیکٹری کے ملبے سے اب تک 53 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، تین شناخت نہ ہونے والی لاشیں جناح ہسپتال لاہور کے ڈیڈ ہاؤس میں پڑی ہیں، جن کا آج ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے گا۔

اب صرف تین چار خاندانوں کی جانب سے اپنے پیاروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، شناخت نہ ہونے والی لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد واضح ہو جائے گا کہ ان کا تعلق کس خاندان سے تھا جبکہ لاپتہ افراد کا بھی تعین کیا جا سکے گا۔

جائے وقوعہ پر اس وقت پاک فوج، ریسکیو 1122 ، بحریہ ٹاؤن اور دیگر اداروں کی ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ریسکیو آپریشن آج مکمل کر لیا جائے گا۔

ڈی سی اولاہور کیپٹن عثمان کا کہنا ہے کہ فیکٹری کا حاضری رجسٹر مل گیا ہے، جس کے مطابق چودہ افراد ابھی بھی ملبے تلے موجود ہے.

پچاس گھنٹے بعد ملبے سے نوجوان زندہ برآمد

سندرفیکٹری کے ملبے سے ریسکیو اہلکاروں نے شاہد نامی مزدور پچاس گھنٹے بعد زندہ نکال لیا گیا۔

خانیوال کے رہائشی شاہد نے اسپتال سے اپنے گھر والوں کو زندہ ہونے کی اطلاع دی تو معلوم ہوا کہ اُس کے اہل خانہ دو روز قبل ایک ناقابل شناخت لاش کو شاہد سمجھ کر لے گئے اور تدفین کر چکے۔

زمیں بوس ہونے والی عمارت سے اب تک ایک سو تین افراد کو زندہ نکالا جا چُکا ہے

ہرگزرتالمحہ مزدوروں کے اہل خانہ پر پرگراں گزررہا ہے،ملبےتلےدبے افرادکے اہل خانہ کسی معجزے کے منتظرہیں لاہور کے صنعتی علاقے میں ناقص میٹریل سےتعمیر فیکٹری چار نومبر کو زمین بوس ہوگئی تھی.

فیکٹری مالک اشرف ملبے تلے ہے یا فرار ہوگیا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا،حادثے کے بعد سے اہل خانہ بھی غائب ہیں، پولیس نے فیکٹری مالک کے ڈرائیور کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے، فیکٹری کا مالک حاجی رانا اشرف سانحے کے بعد سے لاپتا ہے ، موت کی تصدیق بھی نہ ہوسکی.

ڈی سی او لاہور کے مطابق ملبے تلے کئی لوگ اب بھی موجود ہیں، پاک فوج کے جوان ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، واقع کے بعد تحقیقاتی کمیٹی بنادی گئی جبکہ متاثرین کے لیے امداد کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے.

فوج نے کنٹرول سنبھال لیا

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے انجینئر جائے حادثہ پر پہنچ چکے ہیں اور امدادی کاروائیاں جاری ہیں، اربن سرچ اینڈ ریسکیو‌ٹیم کو خصوصی طیارے کے ذریعے راولپنڈی سے لاہور بھیجا گیا ہے.

فوج کے دستوں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر علاقے کا نظم و نسق بھی اپنے ہاتھ میں لےلیا ہے اور امدادی سرگرمیاں اب فوج کی نگرانی میں انجام دی جارہی ہیں.

تفصیلات کے مطابق زمین بوس ہونےوالی چار منزلہ فیکٹری کا نام راجپوت سنڈے لیدر ہے جہاں 200 سے زائد کارکن کام کرتے ہیں۔

ریسکیو آپریشن

ریسکیو کی تیس ایمبولینسیں ، نو کرینیں اور دیگر بھاری مشینری اس وقت جائے حادثہ پر امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ اور ملبے تلے دب جانے والے افراد کی تلاش جاری ہے۔

اب تک 100 کے لگ بھگ افراد کو زخمی حالت میں عمارت کے ملبے سے برآمد کیا گیا ہے اور انہیں نزدیکی اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔

ریسکیو اہلکاروں کے مطابق ابھی بھی ملبے سے مدد کے لئے آوازیں آرہی ہیں اور اندیشہ ہے کہ 150 سے زائد افراد ملبے تلے موجود ہیں۔

امدادی کاموں میں تاخیر

جائے وقوعہ پر موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ ریسکیو 1122 کی پہلی ایمبولینس 45 منٹ کی تاخیر سے پہنچی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امدادی مشینری ڈھائی گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچی۔

ڈی آئی جی آپریشنز

ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف کے مطباق ملتان روڈ سندراسٹریٹ میں منہدم ہونےوالی فیکٹری میں پولیتھین بیگز بنانےکاکام ہوتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کےوقت تیسری منزل پرتعمیراتی کام جاری تھا کہ اچانک عمارت زمین بوس ہوگئی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فیکٹری کےمالک اشرف کی گرفتاری کےلئے ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں اور جلد ہی وہ قانون کی گرفت میں ہوگا۔

اب تک ملبے سے 12 کارکنان کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ زخمیوں کو جناح اسپتال اورجنرل اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

سیاسی رہنماوں کا ردعمل

سیاسی رہنماوٗں نے لاہورمیں سندر انڈسٹریل اسٹیٹ سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم نے سانحے میں زخمی ہونے والے افرادکو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے شریف میڈیکل کمپلیکس کا دورہ کیا اورسانحے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔

شہبازشریف نے جائے حادثہ کا بھی دورہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ عمارت کیسےگری ،واقعےکی تحقیقات ہوں گی

مسلم لیگی رہنما زعٰیم قادری کا کہنا ہے کہ سانحے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے، وزیراعلیٰ کےحکم پراسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

وزیرمحنت راجہ اشفاق سرورنےڈسٹرکٹ لیبر افسرکوتحقیقاتی افسرمقررکرکے دوروزمیں حادثے کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سندر انڈسٹریل اسٹیٹ

سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام ملک کی بڑھتی ہوئی صنعتی ضروریات کی تکمیل کے لئے فروری 2007 میں عمل میں آیا تھا۔

1750 ایکڑ پر محیط اس انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کا بنیادی مقصد صنعت کاروں کو مزید سہولیات فراہم کرنا تھا۔

اکتوبر2012 تک یہاں کام شروع کرنے والی فیکٹریز کی تعداد 255 تھی جس میں بعد میں مزید اضافہ ہوا۔

سندر انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور کے قلب سے 45 کلومیٹردورسندرراوئیونڈ روڈ پرواقع ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں