بدھ, اگست 12, 2026
اشتہار

لاہور : نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش پر رجسٹرار کا مؤقف سامنے آگیا

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور: نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش پر رجسٹرار کا مؤقف سامنے آگیا، انھوں نے بتایا کہ طالبہ کی نوے فیصد سے زائد حاضری اور کلاس میں بھی بہتر پر فارمنس ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی نجی یونیورسٹی آف لاہور میں ایک طالبہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کا واقعہ پیش آیا، جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے۔

رجسٹرار یونیورسٹی آف لاہور علی اسلم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا طالبہ نے یونیورسٹی کی عمارت کے دوسرے فلور سے چھلانگ لگائی، طالبہ کی صحت کیلئے دعاگو ہیں۔

علی اسلم نے بتایا کہ متاثرہ طالبہ کی حاضری 90 فیصد سے زائد تھی اور وہ کلاس میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ طالبہ نے ستمبر میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا، تاہم اس کا سلیبس مکمل نہیں ہو سکا تھا جس پر مختلف باتیں سامنے آ رہی ہیں۔

مزید پڑھیں : لاہور: نجی یونیورسٹی میں خودکشی کرنے والی طالبہ وینٹی لیٹر پر ، حالت تشویشناک

رجسٹرار کا کہنا تھا کہ ذہنی صحت (مینٹل ہیلتھ) ایک عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں لوگ ذہنی دباؤ اور اذیت کا شکار ہیں، تاہم طالبہ کی ذہنی صحت سے متعلق کسی حتمی رائے کا اظہار انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل اویس سلطان کے واقعے کی انکوائری بھی جاری ہے، جس کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جلد جاری کر دی جائے گی، جبکہ حالیہ واقعے کے لیے بھی نئی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

رجسٹرار کے مطابق یہ انکوائری کمیٹی وزارتِ تعلیم پنجاب کے ماتحت بنائی جائے گی تاکہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کیس میں بھی طالب علم کی حاضری مکمل تھی، مالی حالات بھی بہتر تھے اور اس کا سی جی پی اے 3.14 تھا۔

صحافی کے سوال پر کہ بعض طلبہ ہراسانی کی شکایات کر رہے ہیں، رجسٹرار علی اسلم نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات ان کے علم میں نہیں ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں گی اور حقائق سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں