The news is by your side.

Advertisement

عدالت نےکرکٹر شاہ زیب کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی

لاہور: پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث کرکٹر شاہ زیب حسن کو عدالت نے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں معطل کرکٹر شاہ زیب حسن کے کیس کی سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کی۔ سماعت کے آغاز پرشاہ زیب کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ میچ فکسنگ کیس ٹریبونل میں زیر سماعت ہے جس کا ابھی فیصلہ نہیں آیا۔

انہوں نے سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل دس اے کے تحت کسی بھی شہری کو شفاف ٹرائل کے بغیر مجرم نہیں قراردیا جا سکتا نہ ہی اس کے خلاف قانون کے برعکس کوئی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

شاہ زیب کے وکیل نے کہا کہ ٹریبونل کے فیصلے سے قبل ہی پی سی بی کی ایماء پر وزارت داخلہ نے شاہ زیب کا نام غیر قانونی طور پرای سی ایل میں شامل کردیا ہے جبکہ ان کا نام کسی مقدمے میں شامل نہیں مگر نام ای سی ایل میں شامل کرکے باہر جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔


اسپاٹ فکسنگ: شاہ زیب نے الزامات کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا


انہوں نے استدعا کی کہ شاہ زیب کو اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے انگلینڈ جانے کی اجازت دیتے ہوئے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام خارج کرنے کا حکم دیا جائے۔

دوسری جانب ڈائریکٹر ایف آئی اے پنجاب عثمان انور نے عدالت کو بتایا کہ پی سی بی کی درخواست پر کرکٹرز کےخلاف تحقیقات کیں اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا اگر شاہ زیب واپسی کی گارنٹی دے تو باہر جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

پی سی بی کے وکیل نے کہا کہ شاہ زیب کے خلاف 5 ستمبر سے ٹربیونل بھی کارروائی شروع کر رہا ہے ان کی ٹربیونل میں شمولیت قانونی تقاضا ہے۔

عدالت نے مشروط طور پر شاہ زیب کو ایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے ایف آئی اے کو کرکٹر کی رضامندی سے بیرون ملک جانے کی مدت طے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ رواں سال 17 مارچ کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے شاہ زیب حسن کو اسپاٹ فکسنگ اسیکنڈل میں مبینہ طورپر ملوث ہونے پر معطل کردیا تھا۔

واضح رہے کہ شاہ زیب حسن سے قبل پی سی بی نے خالد لطیف، شرجیل خان اور محمد عرفان کو اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پرمعطل کیا تھا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں