وزیراعظم استعفیٰ دیں ،لاہور ہائیکورٹ بار کا 7دن کا الٹی میٹم -
The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم استعفیٰ دیں ،لاہور ہائیکورٹ بار کا 7دن کا الٹی میٹم

لاہور : پاناما فیصلے پر لاہور ہائیکورٹ بار نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے سات دن کا الٹی میٹم دے دیا اور کہا کہ سات روزمیں وزیراعظم مستعفی نہ ہوئے تو عدلیہ بحالی سے بڑی تحریک چلائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ بار نے بھی وزیر اعظم نوازشریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا، صدر ہائیکورٹ بار رشید اے رضوی کا کہنا ہے کہ  وزیر اعظم7 روزمیں استعفیٰ دیں ورنہ لائحہ عمل طےکریں گے، 20اپریل کا فیصلہ وزیر اعظم کے خلاف فرد جرم ہے،  ججز نے واضح کردیا وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے۔

رشیداے رضوی نے کہا کہ تمام ججز نے وزیراعظم کے بیان کومسترد کردیا، نوازشریف نے اسمبلی اور قوم سے جھوٹ بولا، نوازشریف کے عہدے پر رہنے کا کیا جواز ہے، سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے خاندان کا دفاع قبول نہیں کیا، جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوناوزیراعظم کی اخلاقی شکست ہے، وزیراعظم کا کرپٹ ہونا قوم کیلئےشرمندگی ہے۔،

نائب صدر ہائیکورٹ بار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نےنوازشریف کا مؤقف مسترد کردیا، وکلا کنونشن بلاکر کرپشن کے خلاف جدوجہد شروع کیجائے گی، ایک ہفتےمیں استعفیٰ نہ دیا توعدلیہ بحالی سے بڑی تحریک چلائیں گے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی، پی پی، جماعت اسلامی،ق لیگ پہلے ہی وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرچکی ہیں۔


مزید پڑھیں : پاناما کیس فیصلہ: رقم قطر کیسے گئی‘ جے آئی ٹی بنانے کا حکم


یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے جوائنٹ انوسٹی گیشن کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی ہر 15روز بعد رپورٹ پیش کرے، وزیراعظم ،حسن اور حسین جےآئی ٹی میں پیش ہونگے اور جے آئی ٹی 60روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وزیراعظم کی اہلیت کا فیصلہ جے آئی ٹی رپورٹ پرہوگا، جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، نیب کا نمائندہ، حکم سیکیورٹی ایکس چینج، ایف آئی اے کا نمائندہ بھی شامل ہوگا۔

سپریم کورٹ نے قطری خط کو مسترد کردیا اور حکم دیا کہ لندن فلیٹس کس کی ملکیت ، منی ٹریل کا پتہ چلایا جائے جبکہ دو ججز نے وزیراعظم کو نااہل کرنے کا نوٹ لکھا تھا۔

 

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں