The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو خبردار کردیا

لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم علی خان نے جاتے جاتے پنجاب حکومت کو خبردار کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان آج ریٹائر ہورہے ہیں، مدت ملازمت پوری ہونے سے قبل معزز چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کی تعیناتی سےمتعلق درخواست کی سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس قاسم علی خان نے ریمارکس دئیے کہ میرے خیال سےآئی جی اور حکومت پنجاب یہ سمجھتی ہےکہ میرےجانے سے قانون بدل جائےگا، جو بھی جج آئیں گے وہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے، اس کیس میں کسی کی جیت نہیں ہے۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو تحفظ دینگےتو ایسا ہی ہوگا، ساتھ ہی انہوں نے معنی خیز انداز میں یہ جملہ ادا کیا ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ آج آئی جی پنجاب کی جانب سے عدالت میں کوئی پیش نہیں ہوا،جس پر درخواست گزار سےمکالمہ کرتے ہوئے چیف جسٹس بولے کہ التوا کی کوشش کےباوجود آپ تحمل سےپیش ہوئے، بظاہر میرا لہجہ بلند تھا مگر ہمیشہ داد رسی کی کوشش کی، آج صرف اس ادارے کیلئے دعا کر سکتا ہوں جہاں سے مجھے عزت ملی۔

آخری کیس کی سماعت کے موقع پر جسٹس قاسم خان نے عدالت میں سب کا شکریہ ادا کیا، معزز جج نے کہا کہ میڈیا کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیشہ مثبت رپورٹنگ کی اس موقع پر وکلا نے بھی چیف جسٹس قاسم خان کا شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال مارچ میں لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس محمد قاسم خان نے عدالت عالیہ لاہور کے 55 ویں سربراہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا، ان کی مدت ملازمت پانچ جولائی کو مکمل ہورہی ہے، ہفتہ وار تعطیلات کے باعث آج معزز جج نے اپنے آخری کیس کی سماعت کی۔

دوسری جانب جسٹس امیربھٹی کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تعینات کردیا گیا ہے، لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس امیر بھٹی چھ جولائی کو ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں