لاہور: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے پرویز مشرف کو سزا سنانے والی خصوصی عدالت کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاہورہائیکورٹ نےقانونی اوراخلاقی طور پر درست فیصلہ کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے لکھا کہ مشرف کیس پہلے دن سےہی متنازع تھا، جن چند ججز نے نوکری سے نکالےجانےکو غداری قرار دے کر کیس شروع کیا،ان ججز نے ناصرف مارشل لا کو جائز قرار دیا بلکہ آئین میں ترمیم کی اجازت دی۔
یہ مقدمہ پہلے دن سے ہی متنازعہ تھا، جن چند ججوں نے نوکری سے نکالے جانے کو غداری قرار دیکر یہ کیس شروع کیا ان ججز نے صرف کچھ سال قبل نہ صرف مارشل لاّ کو جائز قدار دیا بلکہ آئین میں ترمیم کی اجازت بھی دی۔ لاہور ہائیکورٹ نے قانونی اور اخلاقی طور پر درست فیصلہ کیا ہے۔ https://t.co/VTZsfMjL9q
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) January 13, 2020
فواد چوہدری نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے قانونی اور اخلاقی طور پر درست فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست منظور کرتے ہوئے خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دیا تھا، عدالت نے کریمنل لااسپیشل کورٹ ترمیمی ایکٹ 1976کی دفعہ9 بھی کالعدم کرتے ہوئے کہا آرٹیکل6 کےتحت ترمیم کا اطلاق ماضی سےنہیں کیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم دینے والی خصوصی عدالت کی تشکیل غیرآئینی قرار
یاد رہے سابق صدر پرویزمشرف نے خصوصی عدالت کےخلاف درخواست دائرکی تھی ، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی ہے، پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کی وفاقی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی، نوازشریف نے اپنی صوابدید پر خصوصی عدالت قائم کی، خصوصی عدالت کے پراسیکیوٹر کی تعیناتی سمیت کوئی عمل قانون کے مطابق نہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


