The news is by your side.

Advertisement

عدالت میں یوم آزادی پر نوجوانوں کی ہلڑ بازی کے خلاف درخواست مسترد

لاہور: ہائی کورٹ نے یوم آزادی پر نواجوانوں کی ہلڑ بازی کے خلاف درخواست مسترد کر دی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے یوم آزادی پر نوجوانوں کو ہلڑ بازی، باجے اور سیٹیاں بجانے سے روکنے اور ایس او پیز پر عمل درآمد کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی۔

جسٹس انوار حسین نے منیب طارق ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ یوم آزادی کے موقع پر باجے بجا کر شہریوں کو تنگ کیا جاتا ہے اور پولیس ذمہ داروں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتی۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت یوم آزادی پر باجے فروخت کرنے اور ہلڑ بازی پر پابندی لگائے۔ درخواست گزار نے یہ بھی کہا کہ کرونا کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کا حکم دیا جائے۔

تاہم عدالت نے بغیر تیاری کے پیش ہونے پر درخواست گزار پر برہمی کا اظہار کیا، اور درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا۔

واضح رہے کہ لاہور میں کرونا ایس او پیز کے پیش نظر آتش بازی کے تمام پروگرامز منسوخ کر دیے گئے ہیں، وائس چیئرمین پنجاب ہارٹی کلچر اتھارٹی حافظ ذیشان رشید نے بتایا کہ پی ایچ اے انتظامیہ نے آتش بازی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ آتش بازی 13 اور 14 آگست کی درمیانی رات کو کی جانی تھی، لیکن کرونا وائرس ایس او پیز اور محرم الحرام کے تقدس کے پیشِ نظر آتش بازی منسوخ کی گئی، اس لیے پی ایچ اے کے زیر اہتمام کسی بھی پارک میں آتش بازی نہیں ہو گی۔

دوسری طرف راولپنڈی میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے، نیا محلہ میں آتش بازی سوتر گولا پھٹنے سے ایک کم سن بچی جاں بحق ہو گئی، اے آر وائی نیوز کے مطابق ایمن ندیم گھر کے باہر کھیل رہی تھی کہ اس کے قریب سوتر گولہ (بارود) پھٹ گیا۔

بارودی مواد پھٹنے سے بچی کے سینے اور جسم کے مختلف حصے زخمی ہوگئے تھے، بچی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئی، بچی کے غم زدہ والد شیخ ندیم نے کہا کہ حکام اس معاملے کا نوٹس لیں ہمارے بچے مر رہے ہیں، اور پولیس کی آتش بازی کے خلاف کاروائیاں بھی سوالیہ نشان بن گئی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں