The news is by your side.

Advertisement

محکمے کارکردگی دکھانے کے بجائے سوئے پڑے ہیں: عدالت برہم

اسموگ کے خلاف اقدامات کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ نے تمام محکموں سے رپورٹ طلب کرلی

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے متعدد محکموں سے اسموگ کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات پر رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمے کارکردگی دکھانے کے بجائے سوئے پڑے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ کے تدارک کے حوالے سے دائر شدہ درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے اسموگ کی روک تھام کے لیے کابینہ اجلاس کی کارروائی کا ریکارڈ طلب کرلیا۔

عدالت نے کہا کہ اسموگ کی روک تھام کے لیے اقدامات پر سالانہ رپورٹ دی جائے۔ اسموگ کی روک تھام کے لیے ون ونڈو سسٹم قائم کیا جائے۔

عدالت نے متعدد محکموں سے کیے گئے اقدامات پر رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت کی جانب سے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ سے آلودگی کی روک تھام کے لیے اور آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف کی گئی کارروائی کی رپورٹ طلب کی گئی۔

عدالت نے کہا کہ سیف سٹی اتھارٹی پر اتنے پیسے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ دوسرے محکموں پر کیوں رقم خرچ نہیں کی جارہی؟ انسانی زندگی سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں۔

عدالت نے واسا سے بھی صاف پانی کی بابت رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک طرف واسا کہتا ہے پینے کا صاف پانی میسر نہیں، بادی النظر میں ایل ڈی اے کارکردگی دکھانے کے بجائے سویا پڑا ہے۔

عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے محکمے اپنے قانونی نظام کو بہتر بنائیں۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر 13 سو درخت کاٹے گئے، فیکٹریوں کے گندے پانی سے مچھلیوں کی افزائش و نسل ختم ہو رہی ہے۔

عدالت نے کہا کہ ڈینگی اسپرے سے صرف مکھیاں مر گئیں، یہ حکومتی کارکردگی ہے؟ پارکس اینڈ ہارٹی کلچرل اتھارٹی (پی ایچ اے) بتائے درختوں کی افزائش نسل کے لیے کیا اقدامات کیے؟

پی ایچ اے کی جانب سے کہا گیا کہ کینال روڈ پر 27 ہزار درخت لگائے ہیں۔ ایک کے بدلے 10 درخت لگانا پی ایچ اے کی پالیسی ہے جس پر عدالت نے کہا کہ لگائے گئے درخت کہیں دکھائی کیوں نہیں دے رہے؟

عدالت نے متعدد محکموں سے رپورٹس طلب کرتے ہوئے درخواست پر مزید سماعت 9 جنوری تک ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں