The news is by your side.

Advertisement

عدالت کا سموگ کی وجہ بننے والے بھٹوں اور صنعتوں کے خلاف کارروائی کا حکم

لاہور: صوبہ پنجاب میں سموگ کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ نے ماحول دوست ٹیکنالوجی استعمال نہ کرنے والے بھٹوں اور آلودگی پھیلانے والے صنعتی یونٹس کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ پر قابو نہ پانے کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے پنجاب حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے کہا کہ زگ زیگ ٹیکنالوجی استعمال نہ کرنے والے بھٹوں اور آلودگی کا باعث بننے والے صنعتی یونٹس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

پنجاب حکومت نے عدالت میں اپنا جواب جمع کروا دیا۔ اپنے جواب میں صوبائی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ آلودگی پھیلانے والے 567 صنعتی یونٹس کے خلاف کارروائی کی۔

حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ متعدد یونٹس بند کیے گئے اور کچھ کو نوٹس جاری کیے گئے، آلودگی پھیلانے والے صنعتی اداروں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ دھند اور دھوئیں کی آمیزش سموگ کا مسئلہ گزشتہ دو برس سے صوبہ پنجاب میں سامنے آرہا ہے، بھارتی پنجاب کے شہروں میں فصلوں کے جلائے جانے سے نہ صرف بھارتی پنجاب بلکہ سرحد کے پار پاکستانی پنجاب میں بھی سردیوں میں زہریلی دھند معمول بنتی جارہی ہے۔

سموگ سے شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں جبکہ کھلی فضا میں سانس لینا بھی محال ہے۔

رواں برس سموگ پر قابو پانے کے لیے فصلوں کی باقیات، کچرا، ٹائر اور پولی تھین جلانے پر دفعہ 144 نافذ کی گئی جبکہ اینٹوں کے بھٹوں کو بھی چند ماہ کے لیے بند کیا گیا جو سموگ کی اہم وجہ ہیں۔

پنجاب حکومت اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر بھی منتقل کرنے کے لیے کوشاں ہے جو عام بھٹوں کی نسبت فضا میں کم آلودگی پھیلاتے ہیں۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق زگ زیگ ٹیکنالوجی سے دھوئیں کے اخراج میں 40 فیصد کمی آتی ہے۔ زگ زیگ ٹیکنالوجی والا بھٹہ سفید دھواں خارج کرتا ہے جو سیاہ دھوئیں کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہے۔ سیاہ دھواں نہایت آلودہ اور زہریلا ہوتا ہے جو ماحول کے لیے بے حد خطرناک ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں