لاہور ہائیکورٹ نے پولی گرافک ٹیسٹ کے استعمال کے لیے اصول وضع کردیے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جسٹس علی ضیا باجوہ نے قتل کے مقدمے میں ملزم محمد عمران کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا، پولی گرافک ٹیسٹ میں بے ضابطگیوں کے باعث ملزم کی عمر قید کےخلاف اپیل منظور کرلی گئی۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ کیس میں کیے گئے پولی گرافک ٹیسٹ میں متعدد غیرقانونی چیزیں پائی گئیں، پولی گرافک ٹیسٹ میں ملزم کی منشا شامل نہیں تھی، موجودہ کیس میں پراسیکیوشن تمام شواہد اکٹھے نہیں کرسکی۔
عدالت کا کہنا ہے کہ ملزم جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے متعلق اپنی مرضی کا بتائےگا، مجسٹریٹ یقینی بنائے کہ ملزم اپنی رائے دیتے وقت جوڈیشل کسٹڈی میں ہو، جسمانی ریمانڈ کےدوران پولی گرافک ٹیسٹ کیلئے ملزم کی مرضی قابل قبول نہیں ہوگی۔
پولی گرافک ٹیسٹ پنجاب فرانزک ٹیسٹ کے اہل افسران کی نگرانی میں ہوگا، ملزم کو حق حاصل ہوگا کہ وہ کسی موقع پر ٹیسٹ دینے سے انکار کردے۔
عابد خان اے آروائی نیوز سے وابستہ صحافی ہیں اور عدالتوں سے متعلق رپورٹنگ میں مہارت کے حامل ہیں


