The news is by your side.

Advertisement

زیر زمین پانی میں‌ جان لیوا اجزا کی موجودگی، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ جاری

لاہور: ہائیکورٹ نے ماحولیاتی آلودگی پر قابونہ پانے کے خلاف درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنا ریاست کی اوّلین ذمہ داری ہے، حکومت نے آلودگی ختم کرنے کے لیے اقدامات نہیں کیے جو حکومت کی ناکامی ہے۔

ماحولیاتی آلودگی پر قابو نہ پانے کے خلاف درخواستوں پر جسٹس شاہد کریم نے 53 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنا ریاست کی اوّلین ذمہ داری ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت نے تحفظ پانی پالیسی کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے، فیصلے میں مزید کہا گیا کہ تحفظ پانی پالیسی پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے پر احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

فیصلے کے مطابق زیر زمین پانی آرسینک، آئرن، فلورائیڈ سے آلودہ پایا گیا، زیر زمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی پر واٹر پالیسی پر عمل درآمد کروایا جائے۔

ماحولیاتی آلودگی سالانہ ڈیڑھ لاکھ اموات کا سبب بن رہی ہے، ہائیکورٹ کے فیصلے میں ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ تیل، کوئلہ جلانے سے سال 2020 میں 70 لاکھ اموات ہوئیں۔

عدالت نے کہا کہ زیر زمین پانی کا ذخیرہ صرف 25 برس تک کے لیے رہ گیا ہے، پانی ایمرجنسی پالیسی آنے والے نسلوں سے ایک عہد ہے، اس پر عمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

یاد رہے کہ مئی 2018 میں پاکستان نے ‘واٹر ایمرجنسی’ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس سلسلے میں مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو پانی کی قلت کا بحران ملک کو تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں