لاہور : لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کو حق مہر دینےسے متعلق بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کہا اگر نکاح نامہ میں مہر ادائیگی کا وقت نہ لکھا ہو تو بیوی کے مانگنے پر مہر دینا ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد حسین نے فاطمہ بی بی نامی خاتون کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگرنکاح نامہ میں مہرادائیگی کا وقت نہ لکھا ہو تو بیوی کے مانگنے پر مہر دیناہوگا۔
درخواست گزار خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف نان نفقہ (ماہانہ خرچ)، جہیز کے سامان کی واپسی اور 5 تولہ سونا بطور حق مہر وصول کرنے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
ابتدائی طور پر فیملی کورٹ نے 5 ہزار روپے ماہانہ خرچ اور مہر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، تاہم جہیز کا دعویٰ مسترد کر دیا تھا۔
فریقین نے اس فیصلے کو چیلنج کیا تو اپیلٹ کورٹ نے خرچ تو برقرار رکھا لیکن مہر کا دعویٰ ختم کر دیا، جس کے خلاف خاتون نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
جسٹس عابد حسین نے خاتون درخواست گزارکی مہر کی رقم دینےسےمتعلق درخواست منظور کرلی اور اپنے فیصلے میں اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ میاں بیوی کی شادی ختم نہ بھی ہو (یعنی طلاق نہ ہوئی ہو) تب بھی بیوی اپنے حق مہر کی حقدار ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اگر نکاح نامہ میں مہر کی ادائیگی کا کوئی مخصوص وقت درج نہیں ہے، تو بیوی جب بھی مانگے، اسے مہر دینا ہوگا۔
ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ نچلی عدالت نے مہر کے معاملے میں غلط فیصلہ دیا اور خاتون کا حق مارا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے حق مہر سے متعلق فیملی کورٹ کا اصل فیصلہ دوبارہ بحال کر دیا ہے اور خاتون کی درخواست کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے اسے مہر دلوانے کا حکم دیا ہے۔
تاہم نان نفقہ اور جہیز سے متعلق اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے۔
عابد خان اے آروائی نیوز سے وابستہ صحافی ہیں اور عدالتوں سے متعلق رپورٹنگ میں مہارت کے حامل ہیں


