منگل, اگست 18, 2026
اشتہار

لاہور میں 12 سالہ گھریلو ملازمہ کی پراسرار موت، پولیس نے تشدد کا الزام مسترد کردیا

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور کے علاقے نصیر آباد 12 سالہ گھریلو ملازمہ کی پراسرار موت کے واقعے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور کے علاقے نصیر آباد میں 12 سالہ گھریلو ملازمہ پراسرار طور پر جاں بحق ہوئی تاہم پولیس نے تشدد کا الزام مسترد کردیا ہے۔

پولیس کا مؤقف ہے کہ ابتدائی معائنے میں بچی کی موت فوڈ پوائزننگ کے باعث ہوئی ہے، گلے میں کھانے کے ذرات پائے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کے جسم پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات موجود نہیں ہیں، موت کا درست تعین فرانزک رپورٹ میں واضح ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ بچی کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا گیا ہے کہ مالکان نے بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا ہے۔

بچی کے والد جاوید نے مالکان کے خلاف رپورٹ درج کروائی، مدعی کا کہنا تھا کہ کنیز فاطمہ ایک ماہ سے صوفی اعجاز کے گھر ملازمت کررہی تھی، مالک کی بہو نے فون پر فوری طور پر فیصل آباد سے لاہور پہنچنے کا کہا۔

والد کے مطابق جب وہ بھائی اور اہلخانہ کے ساتھ اسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچی کو مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے ملزم صوفی اعجاز کو گرفتار کیا تھا۔

اہم ترین

مزید خبریں