اے حمید کے قلم کی نوک سے ناول، افسانے، ڈرامے، ادبی اور فلمی شخصیات کے تذکرے بھی نکلے اور سنجیدہ و مزاح پر مبنی تحریریں بھی۔ لاہور وہ شہر تھا جس سے انھیں عشق تھا اور یہاں انھوں نے زندگی کے جو رنگ اور ہنگامے دیکھے اور علم و فنون کی دنیا سے وابستہ جن شخصیات کے ساتھ وقت گزارا، اسے لاہور کی یادیں (یادداشتیں) نامی کتاب میں جمع کردیا۔ اسی کتاب میں انھوں نے پاکستان فلم انڈسٹری کے چند باکمالوں کا تذکرہ کیا ہے اور فلمی دنیا کے عروج کا احوال پیش کیا ہے ملاحظہ کیجیے۔
اے حمید اپنی اس کتاب میں ایک جگہ لکھتے ہیں: رائل پارک کے اس پرانے لاہور کے دوسرے ہوٹل کا نام برسٹل ہوٹل تھا۔ ابراہیم جلیس کراچی چلا گیا تھا۔ جب کبھی لاہور آتا تو اسی برسٹل ہوٹل کے ایک چھوٹے سے کمرے میں ٹھہرا کرتا۔ ہم دوست اس سے ملنے جاتے تو وہ بلند بانگ قہقہوں سے ہمارا خیر مقدم کرتا۔ ہم الماریوں کی تلاشی لے کر کہیں نہ کہیں سے بیئر کی کوئی بوتل نکال کر وہیں پی جاتے۔ سدھیر، سنتوش اس زمانے کے خوش شکل اور مقبول ہیرو تھے۔ سیف الدین سیف، قتیل شفائی، تنویر نقوی، حزیں قادری اور احمد راہی لوگوں کے پسندیدہ فلمی نغمہ نگار تھے۔ موسیقاروں میں ماسٹر عنایت حسین، ماسٹر غلام حیدر، رشید عطرے اور بابا چشتی کا بڑا شہرہ تھا۔ ابھی شاہ نور اسٹوڈیوز کی بنیادیں اٹھائی جارہی تھیں۔ شوٹنگ زیادہ تر پنجاب آرٹ اسٹوڈیو یعنی سابق پنچولی آرٹ اسٹوڈیوز اور اسکرین اینڈ ساؤنڈ اسٹوڈیو میں ہی ہوتی تھیں۔ لاہور میں ابھی تک انڈین فلمیں سینما ہالوں میں چلتی تھیں۔ شام کو تقریباً ہر دوسرے روز ہمارا فلم اسٹوڈیوز کا چکر لگتا تھا۔
پاکستان کی فلم انڈسٹری ابھی اپنے ابتدائی دور میں تھی۔ شوٹنگ کے لیے آج کی طرح جدید ترین سہولتیں میسر نہیں تھیں۔ سیٹ معمولی پلائی وڈ یا گتے کے لگائے جاتے جن میں ملتانی مٹی کا پوچا پھیر دیا جاتا۔ لیکن اس زمانے کے کیمرا مین، سوٹ ڈیزائنر، آرٹ ڈائریکٹر، فلم ایکٹر اور ہدایت کار وغیر ہ بڑے قابل لوگ تھے۔ یہ ان ہی کی قابلیت اور محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہماری فلم انڈسٹری اتنی ترقی کر گئی ہے اور کر رہی ہے۔ یہ لوگ بڑی لگن سے کام کرتے تھے۔ ان میں جوہرِ قابل کی بھی کمی نہیں تھی۔ ناموافق حالات میں بھی انہوں نے اس زمانے میں ایسی معیاری فلمیں ہٹ کرائیں کہ جن کے آگے سینما ہالوں میں لگی ہوئی انڈین فلموں کے چراغ بھی گل ہو گئے۔
بعد میں انور کمال پاشا، خواجہ خورشید انور ، سیف الدین سیف اور نذیر اجمیری جیسے اعلیٰ پائے کے ہدایت کاروں نے ہماری فلمی صنعت کو بلا شبہ بہت آگے بڑھایا۔ خواجہ خورشید انور کی منفرد فلمیں تو پہلے ہی انڈیا میں اپنے جھنڈے گاڑ چکی تھیں۔ پاکستان آکر انہوں نے نہ صرف درجۂ کمال کی فلمی دھنیں بنائیں بلکہ بعض فلموں کی بڑی کامیاب ہدایت کاری بھی کی۔ ان کے ساتھ ہی حسن لطیف ایسے مایہ ناز موسیقاروں نے بھی ہماری فلمی صنعت کی اپنے خونِ جگر سے آبیاری کی۔ ایسے ایسے دیو پیکر فن کار، موسیقار، شاعر اور ہدایت کار اس زمانے میں ہماری فلم انڈسٹری میں کام کر رہے تھے کہ ان کے لیے میدان چھوٹا تھا۔ فلم ایڈیٹروں میں علی صاحب اور ایم اکرم تھے کہ جنہیں اپنے فن میں کمال حاصل تھا۔ انور کمال پاشا کے یونٹ نے ہماری پاکستانی فلمی صنعت کو کئی نئے چہرے دیے جو بعد میں پردۂ سیمیں پر چاند سورج بن کر چمکے۔
ان لوگوں کو کام کرتے دیکھتے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ وہ اتنے کمرشل نہیں تھے۔ انہیں ہر دم فن کی عظمت کا خیال رہتا تھا۔ روپے پیسے کی بھی اتنی فراوانی نہیں تھی۔ فن کاروں میں روپے کی ہوس بھی نہیں تھی۔ ہر کوئی اپنے شوق کی خاطر بہتر سے بہتر ادائیگی کرتا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


