(2 فروری 2026): لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے مذہب کی تبدیلی کے بعد عورت کی پہلی شادی کی قانونی حیثیت کے حوالے سے حکومت کو ٹھوس قانون سازی کا بڑا حکم جاری کر دیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے قرار دیا ہے کہ واضح قانون نہ ہونے کی وجہ سے لوگ سنگین پیچیدگیوں میں الجھے رہتے ہیں، لہٰذا حکومت اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کے اشتراک سے ایسا جامع فریم ورک بنائے جس میں تمام فریقین کے حقوق کا تحفظ ہو۔
عدالت نے یہ اہم فیصلہ کرن نامی خاتون کی درخواست پر جاری کیا ہے جس نے موقف اختیار کیا تھا کہ اسلام قبول کر کے دوبارہ شادی کرنے پر پولیس اسے ہراساں کر رہی ہے۔ پہلے خاوند نے کرن کے خلاف دوسری شادی کرنے پر پولیس کو درخواست دے رکھی ہے۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کوئی خاتون اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرے تو اس کی پہلی شادی کی حیثیت اور بچوں کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کو قانون بنانا چاہیے تاکہ قانونی ابہام کا خاتمہ ہو سکے۔
عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ ایسی قانون سازی کی جائے جو آئین میں دیے گئے اقلیتوں کے حقوق کے عین مطابق ہو اور جس میں ہر شہری کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاملے کو وفاقی شرعی عدالت میں بھی زیر بحث لایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے خاتون کو ہراساں نہ کرنے کی یقین دہانی پر درخواست نمٹا دی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


