ہفتہ, اپریل 11, 2026
اشتہار

لاہور : نجی یونیورسٹی میں خودکشی کرنے والے طالبہ کے علاج کیلئے قائم میڈیکل بورڈ کی تشکیل نو

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور: نجی یونیورسٹی میں خودکشی کرنے والے طالبہ کے علاج کیلئے قائم میڈیکل بورڈ کی تشکیل نو کر دی گئی ہے، تمام شعبوں کے سینئر ڈاکٹرز طالبہ کی مسلسل نگہداشت کر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں نجی یونیورسٹی میں دوسری منزل سے چھلانگ لگانے والی طالبہ فاطمہ کی حالت سنبھل رہی ہے، جنرل اسپتال میں زیرعلاج طالبہ کے علاج کیلئے قائم میڈیکل بورڈ کی تشکیل نو کردی گئی۔

میڈیکل بورڈ کے ارکان کی تعداد 4 سے بڑھا کر 7 کر دی گئی ہے، جس میں پرنسپل پروفیسر فاروق افضل، پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر خرم، ایچ او ڈی پلمونالوجی ڈاکٹر جاوید مگسی اور ایسوسی ایٹ پروفیسر گائنی ڈاکٹر سائرہ ذیشان شامل ہیں۔

بورڈ کے تمام شعبوں کے سینئر ڈاکٹر طالبہ کی مسلسل نگہداشت کر رہے ہیں، پروفیسر فاروق افضل کا کہنا ہے کہ فاطمہ کو بہترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

گذشتہ روز نجی یونیورسٹی میں خود کشی کرنے والی طالبہ کی دونوں ٹانگوں کا کامیاب آپریشن کیا گیا تھا اور ڈاکٹرز نے 48 گھنٹے طالبہ کیلئے اہم قرار دیئے تھے۔

کمیٹی سربراہ ڈاکٹر جودت سلیم کا کہنا تھا کہ لڑکی کوشدید ہیڈ انجری تھی تاہم حالت اب بہترہے، طہماری ٹیم نے اس لڑکی کو صدمے سے باہرنکالا، ہمارا فوکس برین انجری پر تھا۔

کمیٹی سربراہ نے بتایا تھا کہ بیہوش ہونے کیساتھ بلڈ پریشر کم اور ایک پھیپھڑا بہت متاثرہواتھا، دو خون کی بوتلیں لگ چکی ہیں،مزید ایک خون کی بوتل لگےگی، نیورو کی ٹیم مزید 2دن دیکھےگی پھر مہروں کے آپریشن کافیصلہ کیا جائےگا، طالبہ آرام پر ہے، اٹھنے کےبعدہی سر کی انجری کا معلوم ہوسکے گا۔

+ posts

سدرہ غیاث اے آر وائی نیوز لاہور سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں

اہم ترین

سدرہ غیاث
سدرہ غیاث
سدرہ غیاث اے آر وائی نیوز لاہور سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں

مزید خبریں