لاہور: ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ پر یونیورسٹی کے دباؤ کے شواہد نہیں ملے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ فاطمہ کی خودکشی کی کوشش کے واقعے پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ پر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کا دباؤ سامنے نہیں آیا۔
فیصل کامران کا کہنا تھا کہ 15 دن کے اندر یونیورسٹی میں دو خودکشی کے واقعات پیش آئے ہیں، جس پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس نے زخمی طالبہ کے کلاس فیلوز اور یونیورسٹی انتظامیہ سے تفتیش کی ہے، تاہم حاضری یا انتظامیہ کی جانب سے کسی پریشر والے معاملے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
مزید پڑھیں : لاہور : نجی یونیورسٹی میں دوسرا خودکشی کا واقعہ ، طالبہ نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگادی
ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید کہا کہ متاثرہ طالبہ کی ٹانگیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور طالبہ کے موبائل فون اور سی ڈی آر سے مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ یونیورسٹی سے پانچ مختلف فوٹیجز بھی حاصل کی گئی ہیں، جن میں طالبہ کو کودتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ اگر کوئی طالبعلم ذہنی پریشانی میں مبتلا ہے تو یونیورسٹی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ فوری توجہ دے، اور کیمروں کے قریب نگرانی کے لیے اسٹاف کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے کہ واقعہ میں کوئی گھریلو مسئلہ بھی شامل ہو، تاہم ابھی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔


