لاہور (23 جنوری 2026): پولیس نے شیرنی کے بچی پر حملے کے بعد چھاپہ مار کارروائی کے دوران 11 شیر تحویل میں لے لیے۔
بھیکے وال میں شیرنی کے بچی پر حملے کی تحقیقات میں پیشرفت سامنے آئی، پولیس نے نواں کوٹ میں چھاپے کے دوران 11 شیر تحویل میں لے لیے جو محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیے گئے۔
پولیس حکام کے مطابق شیرنی کے حملے میں متاثرہ بچی رابعہ کے والد خضر عباس کی مدعیت میں تھانہ اقبال ٹاؤن میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں شجاع کھوکھر، ملک شہزاد، اعظم اور زریاب نامزد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خونخوار شیر نے خاتون کا بازو چبا کر الگ کر دیا
پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم زریاب اور اعظم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
گزشتہ روز لاہور کے علاقے بھیکے وال پنڈ میں پالتو شیرنی کے حملے سے 8 سال کی بچی رابعہ زخمی ہوگئی تھی جسے طبی امداد کیلیے شیخ زید اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق 2 افراد پالتو شیرنی کو رکشہ سے اتار رہے تھے، اس کے حملے سے بچی کی ٹانگ اور کان پر زخم آئے، بعدازاں ملزمان پالتو جانور کو لے کر فرار ہوگئے تھے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سخت قانونی کاروائی کا حکم دیا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی لاہور میں اس طرح کا واقعہ پیش آ چکا ہے۔ 21 دسمبر 2024 کو پالتو شیر نے شہریوں پر حملہ کرتے ہوئے 3 افراد کو زخمی کر دیا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


