The news is by your side.

Advertisement

پولیس نے پنجاب اسمبلی کو کیوں گھیرے میں لیا، اے آر وائی نیوز نے پتا لگا لیا

لاہور: پولیس نے پنجاب اسمبلی کو کیوں گھیرے میں لیا، اے آر وائی نیوز نے پتا لگا لیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور پولیس نے ارکان کو حلف لینے سے روکنے کے لیے صوبائی اسمبلی کے دروازے بند کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر قانون نےگزشتہ شب وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو صوبائی اسمبلی پر بریف کیا تھا، ذرائع اعظم تارڑ کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ابھی وزیر اعلی ٰ پنجاب حمزہ شہباز کی اکثریت قائم ہے، جب کہ ذرائع وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر ضمنی انتخاب تک 4 مخصوص نشستیں کوئی نہیں لے سکتا۔

پولیس نے پنجاب اسمبلی کا کنٹرول سنبھال لیا

الیکشن کمیشن نے بھی کسی نئے رکن کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، ذرائع وزیر قانون کے مطابق 20 سیٹوں کا ضمنی انتخاب کون سی جماعت جیتے گی، یہ کسی کو نہیں معلوم، اسپیکر پنجاب اسمبلی کسی ممبر سے اپنے طور حلف نہیں لے سکتے۔

واضح رہے کہ پنجاب میں ایک بار پھر پولیس گردی کا واقعہ رونما ہو گیا ہے، اسمبلی اجلاس سے پہلے پنجاب پولیس نے اسمبلی کا کنٹرول سنبھال لیا، اور اسمبلی ملازمین کو بھی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جانے سے روک دیا ہے۔

پولیس نے ڈی جی پارلیمانی امور رائے ممتاز حسین کو حراست میں لے لیا، ان کی اہلیہ نے الزام عائد کیا کہ رات ساڑھے تین بجے پولیس دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئی، سیکریٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی اور ڈی جی کوآرڈینیشن عنایت اللہ لک کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں