site
stats
انٹرٹینمںٹ

‘فلم ’لاہور سے آگے‘ اور ’کراچی سے لاہور‘ مختلف فلمیں’

پاکستانی فلم ’لاہور سے آگے‘ کے ڈائریکٹر وجاہت رؤف کا کہنا ہے کہ یہ فلم ’کراچی سے لاہور‘ کا سیکوئل ہرگز نہیں ہے۔ اس فلم میں آپ کو ہر چیز مختلف نظر آئے گی۔

اے آر وائی فلمز اور شوکیس فلمز کے مشترکہ تعاون سے بننے والی فلم ’لاہور سے آگے‘ بہت جلد سینما گھروں کی زینت بننے والی ہے۔ فلم کے مرکزی کرداروں میں صبا قمر اور یاسر حسین شامل ہیں۔ فلم کے ڈائریکٹر وجاہت رؤف ہیں جبکہ یاسر حسین ہی فلم کے مصنف بھی ہیں۔

saba-6

اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فلم کی مرکزی کاسٹ صبا قمر، یاسر حسین اور ڈائریکٹر وجاہت رؤف نے فلم کے بارے میں بتایا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر وجاہت رؤف نے بتایا کہ اس فلم کو ’کراچی سے لاہور‘ کا سیکوئل نہیں کہا جاسکتا۔ یہ دونوں فلمیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

اس سے قبل ’کراچی سے لاہور‘ میں مرکزی کردار عائشہ عمر اور شہزاد شیخ نے ادا کیا تھا۔

اس بار فلم کے مرکزی کردار کے لیے صبا قمر کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ اس بارے میں ڈائریکٹر وجاہت رؤف نے بتایا کہ ایک تو اس کردار کے لیے لمبی لڑکی چاہیئے تھی، دوسری وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اور یاسر نے صبا کے بے شمار ڈرامے دیکھے تو ان کے کرداروں کے تنوع سے انہیں اندازہ ہوا کہ صبا ایک ورسٹائل اداکارہ ہیں۔

saba-7

انہیں محسوس ہوا کہ صبا اس کردار کو بخوبی نبھا سکتی ہیں اور وہ ان کی توقعات پر پورا اتریں۔ یاسر نے یہ بھی بتایا کہ صبا کا تعلق لاہور سے ہے اور فلم میں ایک لاہوری لڑکی ہی کی ضرورت تھی جس کے لہجے سے لاہور کی پہچان جھلکے۔ ان تمام چیزوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے قرعہ فال صبا قمر کے نام نکلا۔

اپنے کردار کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے صبا قمر نے بتایا کہ وہ فلم میں ایک موسیقار کا کردار ادا کر رہی ہیں اور وہ اپنے اس شوق کی مستقل تکمیل کے لیے نہایت جنونی ہے۔

saba-new

انہوں نے انکشاف کیا کہ فلم میں ایک اور کردار موجود ہے جو اس راک اسٹار کا بوائے فرینڈ ہے لیکن وہ کردار کون ادا کر رہا ہے، یہ فلم بینوں کے لیے ایک سرپرائز ہوگا۔

صبا قمر پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ ہیں اور وہ متعدد ٹیلی فلمز اور ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں، تاہم ڈرامہ اور فلم میں اداکاری کے درمیان انہیں کیا فرق محسوس ہوا؟

saba-5

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے صبا نے بتایا کہ فلم کا کینوس اور اس میں اداکاری کا دائرہ وسیع ہے۔ انہوں نے فلم اور ڈرامہ دونوں میں اداکاری کے لیے بہت محنت کی اور دونوں میں کام کر کے وہ بہت لطف اندوز ہوئیں۔

مزید پڑھیں: فلم لاہور سے آگے دیکھیں اور میری زندگی بچائیں

فلم کی شوٹنگ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں کی گئی ہے۔ اس بارے میں یاسر نے ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے (جگہ اور افراد کے نام صیغہ راز میں رکھتے ہوئے) بتایا کہ ایک مقام پر ٹراؤٹ مچھلی بے حد مشہور تھی اور وہاں باقاعدہ ایک وزیر صاحب بھی تھے جن کا خود ساختہ شعبہ ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش تھا۔

انہوں نے فلم کی کاسٹ کے لیے کئی ڈبوں میں بھر کر ٹراؤٹ مچھلی بھجوا دی۔ وہ مچھلی مقدار میں اس قدر زیادہ تھی کہ اس دن وہاں آس پاس موجود تمام ہوٹلوں کے چوکیداروں تک نے ٹراؤٹ مچھلی کھائی۔ بقول یاسر وہاں سے گزرتے لوگوں کو روک کر ٹراؤٹ مچھلی کھلائی گئی تاکہ وہ ضائع نہ ہو۔

film-1

فلم ’لاہور سے آگے‘ مرکزی کرداروں کے سفر پر مشتمل ہے جس کے دوران انہیں مختلف سنگین و رنگین حادثات و واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فلم میں پانچ گانے شامل کیے گئے ہیں۔ ایک آئٹم سانگ بھی شامل ہے جسے صبا قمر اور یاسر حسین پر فلمایا گیا ہے۔ فلم کی موسیقی شیراز اوپل نے ترتیب دی ہے۔

دیگر کرداروں میں بہروز سبزواری، روبینہ اشرف، عتیقہ اوڈھو، عبد اللہ فرحت اللہ اور عمر سلطان بھی شامل ہیں۔

فلم بنیادی طور پر مزاحیہ اسکرپٹ پر مشتمل ہے اور فلم کی کاسٹ کا کہنا ہے کہ یہ 2 گھنٹے فلم بینوں کی زندگی کے پر مزاح ترین اور بہترین 2 گھنٹے ثابت ہوں گے۔

اے آر وائی فلمز کی پیشکش ’لاہور سے آگے‘ رواں سال 11 نومبر کو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کردی جائے گی۔

تصاویر: حمزہ عباس

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top