احسان دانش کو شاعرِ مزدو کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے وقت کے مقبول شاعر ہی نہیں تھے بلکہ ان کا موضوع زبان و بیان اور لسانیات بھی رہا اور اس ضمن میں ان کی تصنیف کردہ کتاب بھی موجود ہے۔ انھوں نے ساری زندگی مشکل حالات سے لڑتے ہوئے گزاری۔ مڈل تک تعلیم حاصل کی اور غربت کے باعث جب گھر کا سامان تک بیچنا پڑا تو مزدوری کرنے نکلے۔ کئی چھوٹے موٹے کئی کام کیے، چپڑاسی بنے، کبھی مالی کا کام کیا اور سب سے بڑھ کر مشقت کی اور کہیں وزن ڈھو کر روزی روٹی کا انتظام کیا۔ یعنی مختلف قسم کی مزدوری بھی کی اور ساتھ ہی شاعری کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
احسان دانش نے اپنی آپ بیتی جہانِ دانش میں اسی دور کے کئی واقعات اور شخصیات کا تذکرہ کیا ہے جس سے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
"شاہی قلعہ لاہور کے جنوبی حصّے کو توڑ کر سیر گاہ بنائی جا چکی تھی اور میں وہاں مزدوروں میں کام کر رہا تھا۔ نہ جانے کس طرح لوہے کی وہ موٹی نالیاں جن کے سرے دیوار میں تھے، ڈھیلی ہو گئیں اور سرے سرک کر نالیاں نیچے کو باہر کی طرف جھک گئیں۔ میں نے جونہی تختے پر پاؤں رکھا تختہ مجھے لے کر ایسی تیزی سے نیچے گرا کہ میں سنبھل نہ سکا اور خندق میں آرہا۔ لیکن نہ جانے کیوں زیادہ چوٹ نہیں آئی۔ میں اپنے پاؤں باہر نکل آیا، لیکن مجھ سے کام نہ ہو سکا۔ کچھ ایسی گم چوٹیں آئیں کہ مجھے سانس لینا دشوار ہو گیا۔”
"چندا جمعدار کے ایک نائب نے یہ کہ کر مجھے لٹا دیا، "چھٹی ہو جائے گی تو تمہیں گھر لے چلوں گا۔” میں دیوار کے سائے میں ایک تغاری پر سر رکھے لیٹا رہا۔ آخر چھٹی کا وقت آگیا اور سب مزدور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ نائب جمعدار نے مجھے سائیکل پر بٹھا کے اپنی لوہے کی بید مجھے پکڑا دی کہ آگے لیے بیٹھے رہنا۔ جب سائیکل چلی تو میں نے وہ بید سیدھے سبھاؤ آگے ہینڈل میں لٹکا دی۔ ایک جگہ سائیکل ڈھلوان میں آکر تیز ہوئی اور ناہموار رستوں میں جھٹکے لگے تو لوہے کی بید سائیکل کے اگلے پہیے میں اٹک گئی اور میں قلابازی کھا کر کوئی چھے فٹ دور سڑک پر جا گرا۔ میرے ماتھے نے اس زور کی رگڑ کھائی کہ پیشانی کی کھال چھلتی چلی گئی اور میں بے ہوش ہو گیا۔ جب ہوش آیا تو میں اپنی قیام گاہ (غسل خانہ) میں پڑا تھا اور چھوٹا جمعدار میرے پاس کھڑا پنکھا جھل رہا تھا۔ اتنے میں فاطمہ کا ایک عزیز اور میرا شاگرد محمد اسماعیل کہیں سے آرہا تھا۔ اتفاق سے میرے پاس بھی آگیا۔ مجھے اُس وقت نیند آگئی تھی اور میں مردے کی طرح خون میں لت پت سو رہا تھا۔ اسماعیل نے جب میری یہ حالت دیکھی تو گھر جا کر سب سے پہلے فاطمہ کو میری سرگزشت سنائی۔ وہ اسی وقت مزنگ سے تانگے پر سوار ہو ڈیورنڈ روڈ پر میرے پاس پہنچ گئی۔ میرے سر سے خون بہہ کر چہرے کو رنگتا ہوا سینہ تک آگیا تھا اور کرتہ خون میں تربتر تھا۔ میری یہ حالت دیکھ کر فاطمہ نے رونا شروع کر دیا۔ جب اُس کے آنسو میرے منہ پر ٹپکے تو مجھے اُس وقت قدرے ہوش آ رہا تھا۔ آنکھ کھلی تو وہ مجھے اس طرح پکار رہی تھی جیسے اُس کا گلا جواب دے چکا ہو اور الفاظ میں جھنجھناہٹ بھر گئی ہو۔ میں نے فاطمہ کو اپنے اوپر جھکا ہوا دیکھا تو کوششوں کے باوصف میری پلکوں سے آنسوؤں کے ابال کو نہ سہارا گیا۔ میں اپنے سینے میں ایک ایسی گھٹی ہوئی آواز پا رہا تھا جو پاک اور روشن تھی۔ اُسی کے ساتھ اس میں تشکر کا جذبہ بھی تھا اور احسان مندی بھی۔”
"میرے مزدور پڑوسیوں نے بہت روکا مگر وہ مجھے وہاں سے اُٹھا کر اپنے گھر لے گئی اور ایک کمرے میں چارپائی بچھا کر میری تیمار داری شروع کر دی۔ جب عبدالرحمٰن کو اس حادثے کی خبر لگی تو وہ کارخانے سے کام چھوڑ کر گھر آگیا اور مجھے رات تک تسلیاں دیتا رہا۔ اس نے فاطمہ سے کہا، دیکھنا احسان صاحب کو کوئی تکلیف نہ ہونے پائے۔ فاطمہ نے مضمحل آواز میں جواب دیا، اللہ مالک ہے، آپ بے فکر رہیں، فاطمہ جب چمچے سے مجھے حریرہ پلاتی تو میں جذبۂ تشکر میں خود کو تحلیل ہوتا محسوس کرتا۔ اُس کی آنکھوں اور چہرے میں ایک ایسی مقدس چیز تھی جو بہن بھائی کے رشتے سے گہری محبت کے تعلق سے شیریں اور عزیز داری کے علاقے سے بلند تھی۔ میں اظہارِ تشکر کے لیے بے تاب رہتا مگر شدتِ جذبات میں زبان و لب کو بے سکت پاتا تھا۔ مجھے اس موقع پر یقین ہوا کہ ایثار کا جذبہ صفتِ خداوندی ہی کی ایک شکل ہے جو اچھے انسانوں کا حصہ ہے اور جذبۂ ممنونیت اظہارِ عبودیت کا ایک پہلو اور شرافت کا ایک ورثہ!”
"تقریباً بیس بائیس دن تک دونوں میاں بیوی میری دیکھ بھال کرتے رہے۔ اور ڈاکٹر صدر الدین صاحب نے وقتاً فوقتاً خبر گیری سے گریز نہیں کیا۔ رفتہ رفتہ تکلیف سے افاقہ اور زخموں سے اندمال اُبھرتا چلا آیا اور پھر وہی راتوں کو میلاد اور دن کو مزدوری کا سلسلہ جاری ہو گیا۔”


