لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ میں پولیس حراست میں ہلاک ہونے والی خواتین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ میں ہلاک خواتین انمول اور آمنہ کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں ملا ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں دونوں پر تشدد ثابت نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق انمول اور آمنہ کے دل میں خون کے لوتھڑے پائے گئے اور ان کےجگر، معدہ اور گردے مکمل صحت مند پائے گئے۔
پوسٹ مارٹم ہلاکت کے دو دن بعد کیا گیا، موت کی حتمی وجوہات کے لیے خون اور جسمانی اعضاء کے نمونے ہسٹوپتھالوجی ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیئے گئے ہیں۔
سی سی پی او لاہور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں خواتین میں سے ایک کے ہاتھ پر انجکشن لگانے کے نشان ہیں، ویڈیو میں دونوں نے انجکشن استعمال کرنے ک ذکر کیا ہے۔
یہ پڑھیں: لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ میں دو ملزم خواتین ہلاک
انہوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کلیئر ہوگیا کہ خواتین پر تشدد نہیں ہوا، اس دن لاہور میں دو اہم ایونٹس چل رہے تھے ہماری نفری وہاں موجود تھی، وہ ویڈیو ہمارے پاس موجود ہیں جس میں لوگوں نے انہیں پکڑا تو اسی دوران کپرے پھٹے۔
سی سی پی او کے مطابق جب خواتین تھانے میں آئیں تو ان کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، کہا جارہا ہے کہ ان کے گلے میں دوپٹہ ڈالا گیا لیکن خواتین اس دوپٹے سے پھٹے کپڑوں کو کور کررہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں خواتین عارضی طور پر لاہور میں مقیم تھیں اور ان پر نوسربازی کے پرچے ہوئے ہیں۔


