لاہور (10 جولائی 2026): لاہور کے علاقے اچھرہ میں ٹیوشن سینٹر کے واش روم سے مردہ حالت میں ملنے والی 10 سالہ بچی نعیمہ کی ابتدائی فرانزک رپورٹ سامنے آگئی۔
ابتدائی فرانزک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچی پر تشدد کی علامت نہیں ملی، جبکہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کے شواہد بھی نہیں ملے۔
تفتیش میں نعیمہ کی ذاتی زندگی کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کر لی گئیں۔
اس حوالے سے پولیس حکام نے بتایا کہ بڑی بہن کے مطابق نعیمہ کافی دن سے خاموش رہتی تھی، سی سی ٹی وی میں بھی کسی شخص کے ٹیوشن سینٹر آنے کی تصدیق نہیں ہوئی، حتمی رپورٹ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد مرتب کی جائے گی۔
پولیس نے ٹیوشن سینٹر کے واش روم میں موجود رسی کے فنگر پرنٹس بھی حاصل کر لیے۔
گزشتہ روز ٹیوشن سینٹر کے واش روم سے بچی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ پولیس حکام نے بتایا تھا کہ 10 سالہ نعیمہ گھر سے ٹیوشن پڑھنے گئی تھی، جس کی لاش سینٹر کے واش روم سے ملی، جاں بحق بچی کے گلے پر نشانات موجود ہیں۔
پولیس حکام نے مزید بتایا تھا کہ واقعے سے متعلق قانونی کارروائی اور تفتیش جاری ہے۔
نعیمہ کے والد کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ میں اصل حقائق سامنے آئیں گے، بچی کے گلے پر نشانات ہیں، تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا۔


