The news is by your side.

Advertisement

میٹھے پانی کی منچھر جھیل زہریلی ہوگئی

کراچی : سندھ حکومت کی غفلت اور عدم توجہی کے باعث پاکستان کی میٹھے پانی کی سب سے بڑی “منچھر جھیل” تباہ حالی کا شکار ہوگئی، جھیل کا آلودہ اور زہریلا پانی لوگوں کو بیماریوں اور افلاس میں مبتلا کررہا ہے۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ جھیل کو آلودہ اور زہریلے پانی سے بچانے کے لیے کئی سال قبل آر بی او ڈی نامی منصوبہ شروع کیا گیا تھا جو کام شروع ہونے سے پہلے ہی سرد خانے کی نذر ہوگیا۔

سندھ کے ضلع دادو میں واقع منچھر جھیل پاکستان میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل تھی۔ یہاں “تھی” اس لیے لکھا گیا ہے کہ یہ جھیل اب کھارے اور زہریلے پانی کا ذخیرہ بن گئی ہے۔ اس میں نہ تو اب مچھلیوں کی افزائش ہوتی ہے اور نہ ہی یہ آس پاس کی زمینوں کو سیراب کرنے کے قابل رہی ہے۔

سندھ میں ہونے والی حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے منچھر جھیل کے اطراف آباد ماہی گیر بھی شدید متاثر ہوئے ہیں اور زیر آب دیہات سے نکل کر بچاؤ بند پر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔

اس تمام تر صورتحال کے باوجود ماہی گیر خوش ہیں کہ جھیل میں تازہ پانی آنے سے اب مچھلیوں کی پیداوار بڑھ جائے گی اور کچھ دن انہیں پینے کے قابل پانی مل جائے گا۔

ماہرینِ کے مطابق ماہی گیروں کی یہ خوشی عارضی ہے کیوں کہ برسوں بعد آنے والا یہ سیلابی پانی بس کچھ ہی دن منچھر جھیل میں زندگی کو بحال رکھ سکے گا اس کے بعد یہ جھیل پھر زہریلی اور مردہ ہوجائے گی۔

سیلابی پانی کے علاوہ منچھر جھیل میں تازہ پانی پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں لیکن آر بی او ڈی سیم نالے کے ذریعہ زہریلا پانی سال کے بارہ مہینے منچھر جھیل میں ڈالا جارہا ہے۔

جھیل کے زہریلے پانی نے ماہی گیروں کی زندگی میں زہر گھول دیا ہے، ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ پہلے مچھلی کی قیمت اچھی مل جاتی تھی لیکن جب سے جھیل کا پانی زہریلا ہوا ہے، مچھلی ناقص اور کم قیمت ہوگئی ہے۔ زہریلے پانی کے باعث بڑے ہوں یا بچے سب جِلد، گردوں اور جگر کی بیماریوں سمیت کسی نہ کسی مہلک مرض میں مبتلا ہورہے ہیں۔

اس کے علاوہ سیاسی طاقت کے حامل ٹھیکیداروں کا ظلم روکنے والا بھی کوئی نہیں، بلکہ حد تو یہ ہے کہ سیلابی پانی کے ساتھ آنے والی مچھلی کو جھیل تک پہنچنے سے پہلے ہی جال لگا کر شکار کرلیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ منچھر جھیل صوبے کا وسیع تر آبی ذخیرہ ہے جسے کیر تھر اور دیگر بارانی و کوہستانی وسائل سیراب کرتے ہیں، اسے ملک کے ایک خوبصورت اور دلفریب تفریح گاہ کا مقام اور حیثیت ملنی چاہیے۔

دریائے سندھ کے ناتے منچھر جھیل اس کا جھومر تھا، اس جھیل میں سندھ کے ماہی گیر (میربحر) اپنی لانچوں اور کشتیوں میں صبح و شام کرتے ہوئے پوری زیست بسر کر لیتے ہیں، یہ خوبصورت جھیل سائبیریا کے ہجرتی پرندوں کی پناہ گاہ ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ارباب اختیار اس لب مرگ جھیل کی بقا کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں