The news is by your side.

Advertisement

منچھر جھیل کی ترنگ میں ہلکورے لیتی زندگی کی نئی امنگ

پاکستان میں‌ مون سون نے اس سال بڑا زور دکھایا اور کیرتھر کے پہاڑوں پر بھی پانی خوب برسا جس کے بعد بالائی علاقوں‌ سے ندی نالوں‌ کے ذریعے بہہ کر آنے والے پانی نے منچھر جھیل کو جیسے زندہ کردیا ہے۔ جھیل سے اپنا رزق اور روزگار سمیٹنے والے بہت خوش ہیں۔

منچھر کو دنیا کی قدیم ترین، ایشیا میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل کہا جاتا ہے اور یہ پاکستان کے لیے ایک اہم آبی ذخیرہ ہے۔ دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع منچھر جھیل کا زیادہ حصّہ جامشورو اور کچھ ضلع دادو میں ہے۔ اس جھیل کا وجود یوں تو موئن جودڑو اور ہڑپہ جیسی تہذیبوں سے بھی قدیم بتایا جاتا ہے، لیکن یہ بھی مشہور ہے کہ یہ جھیل 1930 میں بنائی گئی تھی۔ 1988 کے ایک سروے کے مطابق منچھر جھیل پر مختلف اقسام کے 25 ہزار پرندے اور قسم قسم کی نباتات دیکھی جاسکتی تھیں۔

جھیل کا رقبہ موسم اور پانی آنے پر گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ منچھر ایک تفریح گاہ اور سندھ کا سیاحتی مقام ہے جسے ان دنوں بارش پانی نے خوب صورت بنا دیا ہے۔ تاہم آلودگی نے اس جھیل اور اس سے کسی نہ کسی طرح‌ جڑے ہوئے انسانوں، حیوانات اور نباتات کی زندگی کو مشکل میں‌ ڈال رکھا ہے۔ 2019 کے ایک سروے کے مطابق منچھر جھیل میں پانی کی آلودگی کی شرح سات ہزار ٹی ڈی ایس تھی، لیکن بارشوں کے بعد نہ صرف جھیل کا پانی پینے کے قابل ہو چکا ہے بلکہ مچھیروں کو بھی روزی روٹی کے حوالے سے بڑی امیدیں ہیں، مگر یہ خوشی چند ماہ کی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کی آلودگی کو سطح آب پر نمودار ہونے میں‌ چھے سات ماہ لگیں‌ گے اور بس۔ جھیل میں میٹھے پانی کا تسلسل ہی اسے دور رکھ سکتا ہے جو ابھی ممکن نظر نہیں آتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں