The news is by your side.

Advertisement

لاکھن جو دڑو کی زمین خالی کرانے کے لیے کمیٹی تشکیل

سکھر: کمشنر سکھر نے موہن جو داڑو کی ہم عصر لاکھن جو داڑو کی سائٹ خالی کرانے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ، ہائی کورٹ نے یہ زمین خالی کرانے کے احکامات دو سال قبل دیے تھے۔

تفصیلات کے مطابق کمشنر سکھر رفیق ابڑو آج لاکھن جو داڑو کے تاریخی مقام کا جائزہ لینے پہنچے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں تاریخی مقام کی زمین عام لوگوں کو الاٹ کی گئی۔

انہوں نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو کہ اس سائٹ کی زمین کی حدود کا جائزہ لے گی ، کمشنر کا کہنا تھا کہ یہاں موجود فیکٹریوں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے گی اور اس اہم تاریخی مقام کو محفوظ بنایا جائے گا۔

سنہ 2015 میں سکھر کے صحافی محب چانڈیو کی جانب سے وکیل سہیل کھوسہ کی معرفت ایک آئینی پٹیشن داخل کرائی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاکھین جو دڑو سندھ کی ثقافت کا قدیمی ورثہ ہے ۔ محکمہ آرکیالوجی کی جانب سے اس کی دیکھ بھال اور اس کو لاورث چھوڑے جانے کی وجہ سے اس پر سیاسی مفاد کے خاطر متعلقہ ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر اس کی 14ایکٹر اراضی کو غیر قانونی طریقے سے الاٹ کر دیا گیا ہے جس کے بعد دیگر افراد نے بھی اس کے اطراف کی زمین اور پلاٹوں پر قبضہ شروع کر دیا ہے ۔

سندھ ہائی کورٹ نے اس پٹیشن پر فیصلہ دیتے ہوئے لاکین جو دڑو کی 14ایکڑ اراضی کی الاٹمنٹ کینسل کرتے ہوئے اس کے اطراف میں غیر قانونی قبضوں کو ختم کرنے کے احکامات دیئے تھے ، تاہم یہ قبضہ تاحال ختم نہیں کرایا جاسکا ہے ۔

یاد رہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ لاکھن جو دڑو موہن جو دڑو سےبھی زیادہ قدیم تہذیب ہے ۔ یہاں سے کچھ عرصے قبل موہن جو دڑو کی مہروں سے مشابہہ ہاتھی کی شبیہہ والی مہر بھی ملی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں