The news is by your side.

Advertisement

لال مسجد کے خطیب نے مذاکرات کی منظوری کے لئے حکومت کو دوہفتے کی مہلت دے دی

اسلام آباد: لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیزنے اپنے مطالبات پورے کرنے کے لئے حکومت کو دو ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اس مدت کے بعد ملک بھرمیں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔

لال مسجد کے خطیب نے گزشتہ روزلال مسجد سے جامعہ حفضہ تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

مقامی انتظامیہ نے مولانا عبدالعزیزسے مذاکرات کئے اورانہیں یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات اعلیٰ حکام تک پہنچائے جائیں گے۔ اسلام آباد کے مقامی حکام نے مولانا سے ایک ماہ کی مہلت بھی طلب کی جس کے جواب میں انہوں نے دو ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگرمطالبات منظورنہیں ہوئے تو پھر ملک بھر میں احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

مولانا عبدالعزیز کے مطالبات میں سرِفہرست ان کے داماد کی بازیابی ہے جو کہ جون 2014 سے لاپتہ ہے، دوئم انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی تحریک نفاذ شریعت پرسے پابندیاں اٹھائی جائیں اور پاکستان میں شریعت کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہ کی جائیں۔ ان کا ایک اور مطالبہ یہ تھا کہ گزشتہ سال ان کے خلاف درج کی جانے والی ایف آئی آر واپس لی جائے اور ان کو دی گئی پولیس سیکورٹی بھی بحال کی جائے۔

مولانا عبدالعزیز نے گزشتہ ہفتے 13 نومبر کو لال مسجد میں خطاب کرتے ہوئے تحریک کے نفاذ کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں