The news is by your side.

Advertisement

الاؤ سے مشعل، چراغ اور ایمی ارگینڈ کے لیمپ تک روشنی کا سفر

نجانے انسان نے کب آگ جلانا سیکھا، کب الاؤ روشن کیا اور بعد میں وہ مشعل اور چراغ کی صورت اپنی کُٹیا اور راستوں کو روشن رکھنا بھی سیکھ گیا۔ ہر دور میں انسان نے اپنی عقل، ذہانت، قدرتی وسائل اور مادّی اشیا کی مدد سے ترقی کی اور مصنوع و ایجاد کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔

کسی زمانے میں نباتات کا روغن اور مختلف اقسام کا تیل مشعل اور چراغ کو روشن رکھتا تھا، لیکن دریافت و ایجاد اور صنعت و حرفت میدان میں‌ ترقی کے بعد “کیروسین آئل” بھی اس کے ہاتھ لگا اور لیمپ بھی تیار ہوا، تاہم اس وقت تک کسی بھی قسم کے تیل کی صفائی کا بہتر طریقہ موجود نہ تھا اور یہی وجہ تھی کہ چراغ اور لیمپ وغیرہ سے تیل کا دھواں اور ناگوار بُو اٹھتی رہتی تھی۔

اسی عرصہ میں سوئٹزر لینڈ کے ایک باسی ایمی ارگینڈ نے بھی دماغ لڑایا اور 1781 میں ایک ایسا لیمپ ایجاد کیا جس کی بتّی روئی کی نہ تھی بلکہ ٹاٹ جیسی بنی ہوئی تھی، یہ پیتل کی ایک موصلی کے گرد لپٹی رہتی تھی جس کے پہلو میں ایک پیچ لگا ہوا تھا، اس پیچ کی مدد سے اُس بتّی کو اوپر نیچے حرکت دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ موصلی اندر سے کھوکھلی تھی اور نیچے سے اس میں ہوا داخل ہوتی تھی۔ اس طرح گویا بتّی کو ہر وقت تازہ آکسیجن پہنچتی رہتی تھی۔ اس موصلی اور بتّی نے خوب کام دیا لیکن ایک نقص رہ گیا کہ اس کا شعلہ کسی قدر دھندلا رہتا تھا اور بھرپور طریقے سے روشن نظر نہ آتا تھا۔

ایک دن اس اختراع باز کے چھوٹے بھائی نے جو ہمیشہ اسے کام کرتا دیکھتا رہتا تھا، ایک ٹوٹی ہوئی بوتل لے کر اس لیمپ کے اوپر رکھ دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شعلہ نہایت روشن نظر آنے لگا۔ لیمپ میں‌ یہ اضافہ خوب کارگر رہا اور اسی کی بنیاد پر بعد میں‌ اس میں مزید اختراعات اور ڈیزائن میں‌ ترامیم ہوتی رہیں جس سے لوگوں کو قدرے سہولت ہوگئی۔

ایمی ارگینڈ کی اختراع کا خوب چرچا ہوا اور اسی کے مطابق کارخانوں‌ میں کاریگروں نے بڑی تعداد میں‌ لیمپ تیار کیے اور یہ خوب فروخت ہوئے۔ مشہور ہے کہ لیمپ متعارف کروا کے دوسروں کی زندگی آسان بنانے والے ایمی ارگینڈ کی زندگی مفلسی اور غربت نے اجیرن کردی تھی اور اسی عالم میں‌ وہ ہمیشہ کے لیے دنیا سے چلا گیا۔

(بحوالہ “ایجادات” از عبدالمجید سالک)

Comments

یہ بھی پڑھیں