The news is by your side.

Advertisement

کراچی کی دو باہمت لڑکیاں لینڈ مافیا کیخلاف ڈٹ گئیں، ویڈیو وائرل

کراچی : شہر قائد میں قبضہ مافیا کے راج کیخلاف بات کرنا بہت مشکل ہے، ان بااثر افراد کی پہنچ اداروں کے طاقتور افسران تک ہوتی ہے جس کی وجہ سے ظلم و ناانصافی کا شکار شخص انصاف سے محروم رہتا ہے۔

لیکن !! کراچی کی دو بہادر خواتین سیدہ ماریہ رضا اور نورین نازلی ہیں جنہوں نے گزشتہ چھ سال سے سپریم کورٹ سے لے کر ضلعی انتظامیہ تک ہر جگہ اس مافیا کیخلاف بغاوت کا علم بلند کر رکھا ہے۔

مشکل ترین سفر کرکے سرکاری اداروں اور عدالت آنے والی سیدہ ماریہ رضا آئی ٹی کی طالبہ اور نورین نازلی ایک نجی اسکول میں استانی تھیں ماریہ رضا کے گھر والے 2014میں گلشن اقبال منتقل ہوئے تو انہیں دیگر مشکلات کے ساتھ سیوریج اور بارش کے پانی کے مسائل کا بھی سامنا رہا۔

اس معاملے کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ علاقے کے نالے پہ قبضہ مافیا کا راج ہے جس کے خلاف ماریہ رضا نے ان ذاتی طور پرعدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا اور اس کے بعد اپنی ساتھی نورین نازلی کے ساتھ قبضہ مافیا کیخلاف ڈٹ گئیں۔

نورین نازلی کی کہانی بھی کچھ اسی طرح کی ہے نورین اورنگی ٹاوٴن کے علاقے جرمن کالونی کی رہائشی ہیں یہاں کے سرکاری اسکول پہ قبضے کیخلاف دو ہزار سولہ نورین نے صوبائی محتسب سے رجوع کیا وہاں سے بات نہ بنی تو سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ پہنچ گئیں۔

نورین نازلی بھی وکیل کی فیس نہ ہونے کے سبب خود ہی اپنا مقدمہ عدالتوں میں لڑ رہی ہیں نورین کے مطابق عدالت ان کے حق میں فیصلہ دیتی ہے مگر مختلف سرکاری ادارے اس پہ عمل درآمد کرنے میں روکاوٹ بنتے ہیں۔

لینڈ مافیا کیخلاف ان دونوں خواتین کی مزاحمت اس بات کی علامت ہے کہ اپنے حقوق کے لیے کسی بھی طاقتور مافیا سے خوف کھائے بغیر عزم و ہمت کی داستان رقم کی جاسکتی ہے۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں