The news is by your side.

Advertisement

خبردار‘ جبل الطارق سے بڑا سیارچہ آج زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا

 واشنگٹن : آج کے روز فلکیات کی دنیا میں دو ایسے واقعات رونما ہونے جا رہے ہیں جو صدیوں میں ایک بار پیش آتے ہیں، ناسا کے مطابق ایک  جسیم سیارچہ اور ایک دم دار ستارہ آج زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا۔ 

ناسا کے مطابق 2014 جے او 25  نامی سیارچہ آج زمین سے محض 18 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا، یہ فاصلہ زمین اور چاند کے درمیان فاصلے سے قریب 4.6 گنا زیادہ ہے۔

 واضح رہے کہ اس سے قبل یہ سیارچہ اب سے چار سو سال قبل زمین کے اتنا نزدیک آیا تھا اور آئندہ 500 سال تک دوبارہ اس کے اس قدر نزدیک آنے کا کوئی امکان نہیں ہے،  امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ اس سیارچے کا حجم  تقریباََ 650 میٹر ہے اور یہ لگ بھگ یورپ کے جبل الطارق جتنا بڑا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے یہ سیارچہ سورج کی سمت سے زمین کی طرف بڑھ رہا ہے، اسے 19 اپریل کے بعد اگلے دو دنوں تک چھوٹے دوربین کی
مدد سے دیکھا جا سکے گا۔اگرچہ چھوٹےحجم کے شہابِ ثاقب اور سیارچے ہر ہفتے زمین کے قریب سے گزرتے ہیں لیکن ایسے دیوہیکل سیارچےزمین کے قریب کم ہی نظر آتے ہیں

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے اس سے قبل سال 2004 میں توتس نامی عظیم الجثہ سیارچہ زمین کے مدار کے قریب آیا تھا، اس کا فاصلہ زمین اور چاند کے درمیان فاصلے سے قریب 4 گنا زیادہ تھا۔ یاد رہے کہ سن 2027 میں اس سے بھی بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا، جس کا حجم 800 میٹر اور اور زمین سے اس کا فاصلہ 3.80 لاکھ کلومیٹر ہوگا۔

دمدار ستارہ  بھی 19 اپریل کو زمین کے قریب سے گزرے گا


ناسا کے مطابق 19 اپریل ہی کو پان اسٹارزنامی  دمدار ستارہ  بھی زمین کے انتہائی قریب سے لیکن محفوظ فاصلے سےگزرے گے، ستارے کا زمین سے فاصلہ قریب 1.75 کروڑ کلومیٹر ہوگا۔


خلا میں معلق دنیا کی طویل ترین عمارت


 صبح کے وقت ان دونوں خلائی اجسام کو خلائی دوربین کے بجائے محض عام دوربین سے  بھی دیکھا جا سکے گا۔ خلا میں دلچسپی رکھنے والے ماہرین اور ستاروں کے دیکھنے کے شوقین افراد کےلئے یہ ایک اہم اوردلچسپ موقع ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں