The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف اور مریم نواز کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا

لاہور : لاہور ہائی کورٹ میں نوازشریف ، مریم نوازاور ن لیگی رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا، جسٹس شاہد مبین نے کیس کی سماعت سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی،جسٹس عاطر محمود اور جسٹس شاہد مبین پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی، عدالتی کاروائی کا آغاز ہوتے ہی جسٹس شاہد مبین نے ذاتی وجوہات کی بناء پر کیس کی سماعت سے معذرت کر لی۔

جس کے بعد نوازشریف اور لیگی رہنماؤں کیخلاف کیسز کی سماعت کیلئے نیا بینچ بنے گا۔

خیال رہے کہ جسٹس شاہد مبین کی معذرت کے سبب بنچ دوسری مرتبہ تحلیل ہوا، اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن کو ملتان بنچ بھوائے جانے کی بنا پر بنچ تحلیل ہو گیا تھا۔


مزید پڑھیں : نواز شریف سمیت 16ن لیگی رہنماؤں کیخلاف توہین عدالت کی درخواست کو سماعت کیلئے فل بنچ بھجوا دیا


فل بنچ کے پاس نوازشریف ،مریم نواز اور لیگی رہنماوں کی عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف متعدد درخواستیں زیر سماعت ہیں، جن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پانامہ فیصلے کے بعد میاں نواز شریف،مریم نواز اور لیگی رہنماوں نے عدلیہ مخالف تقاریر کیں اور عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑایا جو واضح طور پر توہین عدالت ہے۔

درخواستوں میں کہا گیا کہ ن لیگی رہنماوں کی تقاریر سے ملک میں انتشار پیدا ہو رہا ہے لہذا ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے اور پیمرا کو توہین آمیز تقایری کی نشریات روکنے کا حکم دیا جائے۔

یاد رہے 30 مارچ کو لاہور ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف اور مریم نواز سمیت 16 مسلم لیگ ن کے مختلف رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی اور عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر پابندی کی تمام درخواستیں فل بنچ کو بجھوا دیں تھیں۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کے کیسز زیر سماعت ہیں ، رہنماؤں میں وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر ریلوے سعد رفیق ، وزیر مملکت طلال چوہدری اور وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز شامل ہیں۔

اس سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی توہین عدالت کیس میں 1 ماہ قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا کاٹ چکے ہیں جبکہ دوسری بار توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کی معافی قبول کرلی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں