The news is by your side.

Advertisement

لاڑکانہ کے ڈاکٹروں کی 13 ماہ سے رکی تنخواہ فوری ادا کرنے کا مطالبہ

اسپتالوں میں ڈاکٹرز نے سیاہ پٹیاں باندھ لیں، وائی ڈی اے، پی ایم اے کی مطالبات کی منظوری کے لیے 3 دن کی مہلت

لاڑکانہ: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ لاڑکانہ کے ڈاکٹروں کی 13 ماہ سے رکی تنخواہ فوری ادا کی جائے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ینگ ڈاکٹرز اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے سندھ حکومت کو 3 دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاڑکانہ کے ڈاکٹروں کی 13 ماہ سے رکی تنخواہ فوری ادا کی جائے۔

صدر وائی ڈی اے کا کہنا تھا کہ تمام سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹرز کی فوری اسکریننگ کی جائے، وبا کے دوران کام کرنے والے ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف کے لیے رسک الاؤنس کا بھی اعلان کیا جائے۔

ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹاف کی تنخواہ میں کٹوتی کا فیصلہ واپس لے لیا گیا

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ ہم ڈاکٹروں کی کرونا فنڈز کی کٹوتی رقم فوری واپس کیے جانے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں، آج تمام طبی امور بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر انجام دیں گے۔

واضح رہے کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹرز نے سیاہ پٹیاں باندھ کر ڈیوٹی شروع کر دی ہے، وائی ڈی اے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی فوری اسکریننگ کا مطالبہ کئی دن سے کرتی آ رہی ہے، 15 اپریل کو بھی وائی ڈی اے نے کہا تھا کہ طبی عملے کی اسکریننگ تاحال التوا کا شکار ہے، وزیر اعلیٰ سندھ طبی عملے کی اسکریننگ کے احکامات جاری کریں۔

ملک بھر میں طبی عملے کے 217 افراد کرونا وائرس کا شکار

چند دن قبل قومی ادارہ صحت نے ہیلتھ پروفیشنلز کی رپورٹ میں کہا تھا کہ ملک میں اب تک 217 ہیلتھ پروفیشنلز کرونا کا شکار ہو چکے ہیں، ان ڈاکٹرز کی تعداد 116، نرسز کی تعداد 34، دیگر اسپتال ملازمین کی تعداد 67 ہے۔ 119 ہیلتھ پروفیشنلز اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت تسلی بخش ہے، 71 ہیلتھ پروفیشنلز آئیسولیشن میں زیر علاج ہیں، 3 ہیلتھ پروفیشنلز جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے 2 کا تعلق گلگت بلتستان اور ایک کا اسلام آباد سے ہے۔ 24 ہیلتھ پروفیشنلز صحت یاب ہو چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں