The news is by your side.

بلاول بھٹو کے "اسامہ بن لادن” والے بیان پر آج بھی قائم ہیں، لطیف کھوسہ

پی پی رہنما لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کے نواز شریف پر ماضی میں اسامہ بن لادن سے پیسے لینے کے الزام بیان کے بیان پر آج بھی قائم ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی کے ایک سوال پر پروگرام میں شریک پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ مسکرا کر جواب دے دیا۔

پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی نے پی پی رہنما لطیف کھوسہ سے سوال کیا کہ ماضی میں پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو نے نواز شریف پر اسامہ بن لادن سے پیسے لینے کا الزام عائد کیا تھا۔ کیا بلاول بھٹو کے اس الزام پر مبنی بیان پر آج بھی قائم ہیں؟

اس موقع پر لطیف کھوسہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ جی آج بھی اس بیان پر قائم ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے شاعرانہ انداز میں کہا کہ یاد ماضی عذاب ہے یارب، اسی لیے کہتا ہوں کہ سیاستدان آپس میں مل کر بیٹھیں اور مقتدر حلقوں کی جانب نہ دیکھیں۔

پی پی رہنما اور ماہر قانون لطیف کھوسہ نے پروگرام میں مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کو متنازع بنانے کی کوشش کی، کیس کے مطابق پی ٹی آئی نے فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ کی ہے، کیس کے مطابق پی ٹی آئی کے بے نامی اکاؤنٹس بھی سامنے آئے ہیں۔ ابراج گروپ کی تفصیل بھی آجائے گی اور بشیر میمن بھی تفصیل دینگے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن فیصلہ دے چکا ہے کہ عمران خان صادق اور امین نہیں رہے۔ اب کابینہ اور اتحادی فیصلہ کرینگے کہ سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجنا چاہیے یا نہیں، تاہم میری ذاتی رائے ہے کہ کسی بھی شخص نااہل یا پارٹی کو کالعدم قرار نہیں دینا چاہیے۔ سیاستدانوں کو اپنے معاملات خود طے کرنے چاہئیں۔ عدالتوں کے پاس جانے کے بجائے پارلیمان میں مسائل حل کریں۔

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 62 ،63 میں کچھ شقوں پر اعتراض تھا لیکن نواز شریف نہیں مانے۔ آج نواز شریف ان ہی شقوں کو ختم نہ کرنے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ عمران خان کو بھی یہ ہی کہتے ہیں کہ آئیں بیٹھیں ورنہ خمیازہ بھگتیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں