The news is by your side.

’لطیف لالا اب ہم میں نہیں رہے‘

قانون کی بالادستی کے لیے صف اوّل میں کھڑے رہنے والے لطیف لالا اب ہم میں نہیں رہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عبدالطیف آفریدی، جنھیں لوگ لالا کے نام سے پکارتے تھے، کو ہائیکورٹ بار میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔

پولیس اور واقعے کے وقت ہائیکورٹ بار روم میں موجود وکلا کے مطابق حملہ آور، جس نے وکیل کا روپ دھارا تھا، بار روم میں داخل ہوا اور عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ پر 5 گولیاں برسا دیں، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گئے، جس صوفے میں وہ بیٹھے تھے اسی صوفے پر انھیں ہائیکورٹ کے باہر لایا گیا اور گاڑی میں ان کو قریب واقع لیڈی ریڈنگ اسپتال لے جایا گیا، تاہم اسپتال انتظامیہ کے مطابق اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ جاں بحق ہو چکے تھے۔

ایس ایس پی آپریشن کے مطابق ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کی شناخت عدنان آفریدی ولد سمیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے، ملزم سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

بار روم میں موجود وکلا کے مطابق عبدالطیف آفریدی بار روم میں سامنے صوفے پر بیٹھے تھے اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اس دوران مسلح شخص نے ان پر فائرنگ شروع کر دی، فائرنگ کے واقعے کے کچھ لمحے بعد جب میں خود (راقم تحریر) بار روم پہنچا، تو وہاں پر دیکھا کہ صوفوں پر خون کے نشان تھے اور لطیف لالا جس لاٹھی کے سہارے چلتے تھے، وہ بھی صوفے پر پڑی تھی۔

عبدالطیف آفریدی کون تھے

عبدالطیف آفریدی 1943 میں ضلع خیبر (انضمام سے پہلے خیبر ایجنسی) کے علاقے تیراہ میں پیدا ہوئے، انھوں نے 1966 میں پشاور یونیورسٹی سے ماسٹر کیا، زمانہ طالب علمی میں 1964 کے الیکشن میں فاطمہ جناح کی حمایت پر ان کو یونیورسٹی سے نکالا گیا، پھر اسی یونیورسٹی سے لطیف لالا نے دو سال بعد ہی ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کر لی اور 1968 میں وکالت کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔

لطیف آفریدی کے صاحب زادے دانش آفریدی ایڈووکیٹ

پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رحمان اللہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ لطیف لالا کا قتل بہت بڑا سانحہ ہے، سیکیورٹی اداروں سے بار بار ہم نے لالا کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، ہم کہتے رہے کہ ان کی زندگی کو خطرات لا حق ہیں، لیکن کسی نے ہماری بات نہیں سنی، آج عبدالطیف لالا ہم سے جدا ہو گئے ہیں۔

رحمان اللہ ایڈوکیٹ نے بتایا کہ لطیف لالا نے شروع دن سے قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے جنگ لڑی ہے، وکلا تحریک میں وہ صف اوّل میں کھڑے رہے، انھوں نے غریبوں کی جنگ لڑی، اور پختون قوم کی جنگ لڑی۔

وکالت اور سیاسی سفر

عبدالطیف آفریدی ایک پروفیشنل وکیل تھے، وہ وکالت کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں بھی متحرک رہے، پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے 6 بار صدر رہے، پاکستان بار کونسل کے بھی نائب صدر رہے، 2020/21 میں وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔

ہائیکورٹ بار ہو یا کوئی سیاسی تقریب، انھیں ایک ہی بات کہتے سنا گیا کہ ملک میں آئین کی بالادستی ہو، تمام ادارے آئین و قانون کے مطابق اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں، تب ہی ملک ترقی کرسکتا ہے۔

لطیف آفریدی ایڈووکیٹ ملک میں مارشل لا کے سخت خلاف تھے، ملک میں جب بھی مارشل لا لگا، لطیف آفریدی نے مخالف تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کئی بار وہ جیل بھی گئے۔

سابق صدر پرویز مشرف نے 2007 میں ایمرجنسی لگائی اور اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو معزول کیا تو وکلا تحریک کا آغاز پشاور سے ہوا، 6 اکتوبر کو ہائیکورٹ کے سامنے وکلا احتجاج کررہے تھے تو پولیس نے ان پر دھاوا بولا، ایک بکتربند گاڑی ان کی ٹانگ پر چڑھ دوڑی، جس کی وجہ سے ان کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی، اور اس کے بعد سے وہ لاٹھی کے سہارے چلنے لگے۔

بیٹا کیا کہتا ہے

عبدالطیف آفریدی کے بیٹے دانش آفریدی جو خود بھی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں، نے بتایا ’’یہ بہت بڑا سانحہ ہے، وہ میرے والد تھے، ان کے جانے سے بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔‘‘ دانش آفریدی ایڈووکیٹ نے کہا ’’ہماری دشمنی تھی، لیکن گولی مارنا اور وہ بھی ہائیکورٹ بار روم کے اندر، یہ بہت تشویش ناک ہے، اس سے پہلے بھی ہمارے خاندان کے لوگوں کو مارا گیا وہ بھی بے گناہ تھے، میرے والد کو بھی بے گناہ قتل کیا گیا، جس پر ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔‘‘

دانش آفریدی نے کہا ’’میرے والد اور مجھ پر قتل کا الزام لگایا گیا، میں خود جیل گیا، عدالت میں کیس چلا اور ہم اس کیس سے بری ہو گئے، عدالت جب بری کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ملزم بے گناہ ہے۔‘‘ دانش نے بتایا ’’جب میں جیل گیا تو وہاں پر دیکھا ہزاروں لوگ بے گناہ جیل میں پڑے ہیں، میری حکومت اور عدالتوں سے التجا ہے کہ جو بے گناہ لوگ جیلوں میں پڑے ہیں ان کے کیسز کو جلد سنا جائے اور انھیں بری کیا جائے۔‘‘

دانش آفریدی نے بتایا ’’صبح میرے والد ہائیکورٹ کیسز میں پیشی کے لیے گئے، روزانہ ہزاروں سائلین اپنے مسائل کے حل کے لیے ہائیکورٹ آتے ہیں، ہمارا جو نقصان ہونا تھا وہ ہو گیا، کسی دوسرے کے ساتھ ایسا واقعہ نہ ہو، اس کے لیے اقدامات کیے جائیں، کیوں کہ ہائیکورٹ بھی غیر محفوظ ہوگا تو وکلا اور سائلین کہاں جائیں گے؟‘‘

دانش کے مطابق ان پر صوبے میں دوبارہ ٹارگٹ کلنگ اور دستی بم حملے شروع ہو گئے ہیں، عوام کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، ریاستی اداروں اور حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ کی نماز جنارہ باغ ناران میں ادا کر دی گئی ہے، نماز جنازہ میں وکلا، ججز، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، ان کو بڈھ بیر قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں