The news is by your side.

Advertisement

قیدیوں کی سزا خریدنے کا قانون! حقیقت کیا ہے؟ سعودی حکام نے بتادیا

ریاض : سعودی جیل کے ترجمان کرنل بندرالخرمی نے قیدیوں کے باقی ماندا سزا رقم کے عوض معاف کرنے کی خبروں کو غیرحقیقی قرار دیدیا۔

عرب میڈیا کے مطابق خلیجی ریاست سعودی عرب سے متعلق خبریں گردش کررہی تھی کہ سعودی حکومت نے قیدیوں کی سزائیں خریدنے کا قانون نافذ کردیا ہے جس کے تحت جیل میں قید افراد کی باقی ماندا رقم کے عوض معاف کردی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے ادارہ جیل خانہ جات کے ترجمان کرنل ڈاکٹر بندر الخرمی کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی سزا کی باقی مدت خریدنے کا ابھی کوئی منصوبہ نہیں جب حتمی فیصلہ ہوگا سرکاری ذرائع سے اعلان کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر دعوی کیا جا رہا تھا کہ قیدی کی وہ مدت جو وہ بحق سرکار کاٹ رہا ہوگا اس کے ہر برس کے عوض وہ 18 ہزار ریال ادا کرنے کے بعد آزاد ہوسکے گا۔

رپورٹ کے مطابق اس قانون کا اطلاق ان قیدیوں پر ہوگا جن برتاؤ جیل میں بہت اچھا رہا ہو اور ان کے جرم کی نوعیت سنگین نہ ہو ساتھ ہی ساتھ ان کی مادری زبان عربی نہ ہو۔

Comments

یہ بھی پڑھیں