site
stats
پاکستان

لاہور ہائی کورٹ بار کا نوازشریف کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان

لاہور: پاناما کیس کے فیصلے کے بعد وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا، لاہور ہائی کورٹ بار نے نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ بار نے وزیر اعظم کو استعفی دینے کے لیے رات بارہ بجے کی ڈیڈ لائن دے دی اگر میاں نواز شریف  مستعفی نہ ہوئے تو   تیرہ مئی کو آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن طلب کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا ئے گا ۔ ہائی کورٹ بار کا اعلان

 لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر ذوالفقار چوہدری نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاناما لیکس کے بعد دنیا بھر سے استعفے آئے مگر سپریم کورٹ سے فیصلہ آنے کے باوجود وزیر اعظم مستعفی نہیں ہوئے جو پوری قوم کے لیے باعث شرم بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ وکلاءنے وزیر اعظم کو استعفی کے لئے سات دن کا الٹی میٹم دیا تھا الٹی میٹم کے باوجود وزیر اعظم کا مستعفی نہ ہونا قابل مذمت ہےآنے والے دنوں میں وکلا سڑکوں پر ہوں گے۔

سیکرٹری لاہورہائیکورٹ بار عامر سعید  نے کہا کہ نوااز شریف ملکی سالمیت کے لئے خطرہ بن چکے ہیں، وزیر اعظم کو بھارتیوں سے خفیہ ملاقاتیں کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، وفاقی وزیر کا استعفی بارش کا پہلا قطرہ ہے۔

صدر لاہور ہائی کورٹ بار نے کہا کہ وزیر اعظم کو مستعفیٰ ہونے کے لیے دی جانے والی مہلت آج رات 12 بجے ختم ہورہی ہے، اگر نوازشریف مستعفیٰ نہ ہوئے تو تیرہ مئی کو آل پاکستان وکلا نمائندوں کا کنونشن طلب کر کے اگلے لائحہ عمل طے کریں گے۔

لاہور ہائی کورٹ بار بار کے نائب صدر راشد لودھی نے کہا کہ مراعات یافتہ چند وکلاء وزیراعظم کے استعفی کے خلاف ہیں۔شہریوں کو انصاف اور ایک وقت کا کھانا دستیاب نہیں دوسری طرف حکمرانوں کی کرپشن نمایاں ہو چکی ہے۔ سپریم کورٹ کے پانچوں ججوں نے وزیراعظم کو کرپشن میں ملوث قرار دیا جس کے بعد اب ان کا عہدے پر رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں انہوں نے کہا کہ خود مختار وکلاء کرپشن کے خلاف ہمارے ساتھ ہیں اور مل کرتحریک چلائیں گے۔

پڑھیں: ’’ پاناما فیصلہ: جماعت اسلامی کی نظرثانی درخواست کیلئے مشاورت ‘‘

یاد رہے کہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کونسل بھی وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کرچکی ہیں، وکلا کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف تحریک کے مطالبے نے دوہزار سات میں چلنے والی  وکلا تحریک کی یاد دلادی جس کے نتیجے میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بحال ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: پاناما معاملے پر خاموش رہنے کے لیے 10 ارب کی پیش کش ہوئی، عمران خان

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما فیصلے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نوازشریف سے مسلسل مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے مستعفیٰ ہوں ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دھرنوں، مظاہروں، جلسے جلوسوں کا انعقاد بھی جارہا ہے، تاہم اب وکلا نے بھی ملک گیر تحریک چلانے کا اشارہ دے دیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top