The news is by your side.

Advertisement

سرعام کی ٹیم بے قصور قرار، لاہور ہائی کورٹ کا ساڑھے تین سال بعد تاریخی فیصلہ

کراچی: لاہور ہائی کورٹ نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام سرعام  کی ٹیم کے حق میں ساڑھے تین سال بعد تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے اقرار الحسن اور اُن کے ساتھیوں کو بے گناہ قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی کے معروف پروگرام سرعام کی ٹیم نے ملک کے سب سے اہم مواصلاتی ذرائع محکمہ ریلوے کے کارگو ڈیپارٹمنٹ کی ناقص کارکردگی  اور رشوت بازاری پر سے پردہ ہٹاتے ہوئے اسلحہ اور گولہ بارود اسٹنگ آپریشن کے تحت کراچی سے لاہور بھیجا تھا۔

پردہ فاش ہونے پر ریلوے حکام نے اے آر وائی کے پروگرام سرعام کی ٹیم کے خلاف مقدمہ درج کرایا اور وفاقی وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے جی ایم ریلوے کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹیم پر اسلحہ، گولہ باردو اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

سرعام کی ٹیم کے 2 نمائندوں کو پولیس نے گرفتار کر کے 6 روز تک حوالات میں بند کیا تھا جنہوں نے بعد میں عدالت سے ضمانت لے کر رہائی حاصل کی تھی، اسی اثناء لاہور ہائی کورٹ میں انتظامیہ اور وزیر کی جانب سے درخواست دائر کی تھی۔

ساڑھے تین سال تک لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمے میں جج رمضان ڈھیڈی نے آج سرعام کی ٹیم کی حمایت اور خواجہ سعد رفیق کی مخالفت میں تاریخی فیصلہ جاری کیا ، یوں سرعام کی ٹیم کا مؤقف سچ ثابت ہوا۔

ریلوے کی جانب سے مقرر کیے گئے وکیل نے مقدمے میں نامزد 12 گواہان کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے ہر بار وقت لیا اور مقدمے کو ساڑھے تین سال تک کا کھینچنے کی کوشش کی۔

سرعام کے سربراہ اقرار الحسن نے برے وقت میں ساتھ دینے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’ہر صورت میں سچ کا آئینہ عوام کے سامنے پیش کرتے رہیں گے چاہیے اُس کے لیے ہمیں کچھ بھی برداشت کرنا پڑے‘۔

اس ضمن میں تحریک انصاف کے رہنما فیصل واؤڈا نے اقرار الحسن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرعام کی ٹیم وہ کام کررہی ہے جو حکومت کو کرنا چاہئے ، آپ لوگ ہر مسئلے پر عوام کی آواز بنے اور پاکستان کی خدمت کی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں